سپریم کورٹ، انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال بعد نمٹا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سپریم کورٹ، انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال بعد نمٹا دی گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) سپریم کورٹ نے انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال بعد نمٹا دی۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شریعت کورٹ نے جن قوانین کی نشاندہی کی تھی وہ ختم ہو چکے، انتخابات کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017 رائج الوقت ہے، اپیلیں غیر مؤثر ہونے کی وجہ سے واپس لینا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال قبل دائر ہوئی تھی۔ شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے 1989 میں اپیلیں دائر کی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجلاؤ گھیراؤ کیس: اعظم سواتی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع جلاؤ گھیراؤ کیس: اعظم سواتی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع پی ٹی آئی رہنما مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا گیا امریکا میں غیر ملکیوں کی اسکریننگ مزید سخت، ورک پرمٹ کی مدت 5 سال سے گھٹا کر 18 ماہ کردی گئی مسلم لیگ ن کا عابد شیرعلی کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ ،باضابطہ طور پر ٹکٹ جاری ملاقات کا روز،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت کسی کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہ ملی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے ریاست اور قومی ہیروز کیخلاف ایوان میں ہرزہ سرائی پر پابندی عائد کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال نمٹا دی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔