امریکہ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی پر گرفتار شہری پاکستانی نہیں بلکہ افغان ہے:پاکستان دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکہ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی پر پاکستانی نژاد امریکی شہری کی گرفتاری پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔
ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق امریکہ میں پکڑا گیا لقمان خان پاکستانی شہری نہیں، تحقیقات کے مطابق لقمان خان افغان شہری ہے۔
لقمان خان بطور مہاجر پاکستان میں کچھ عرصہ رہا، افغان شہری نے بیشتر زندگی امریکہ میں گزاری ہے۔ پاکستانی شہری کی امریکہ میں گرفتاری سے متعلق میڈیا پر بے بنیاد خبر چلائی گئی۔
اب آرمی چیف کی ریٹارمنٹ کی عمر نہیں ہے: رانا ثناء اللہ
ترجمان نے بتایا کہ لقمان خان کے پاس امریکہ اور افغانستان کی دہری شہریت ہے، لقمان خان نے کچھ وقت افغان پناہ گزین کیمپ میں بھی گزارا۔
واضح رہے کہ امریکی شہر ڈیلاویئر میں پاکستانی نژاد امریکی نوجوان کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 25 سالہ لقمان خان کی گرفتاری 24 نومبر کی رات عمل میں آئی جب پولیس نے کینبی پارک ویسٹ میں ایک ٹرک کو روکا جس میں لقمان موجود تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے گاڑی سے باہر نکلنے کے احکامات پر عمل نہ کیا اور مزاحمت کی جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔
بھارت: محبت کی شادی کرنیوالی نئی نویلی دلہن سسرال میں مردہ پائی گئی
پولیس کی تحقیقات کے دوران لقمان خان کے ٹرک سے پستول، میگزین اور مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کی دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔
برآمد ہونے والی دستاویز میں یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے پولیس اسٹیشن کا خاکہ، داخلی و خارجی دروازوں کے نشانات اور ایک پولیس افسر کا نام شامل تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حملے کی منصوبہ بندی امریکہ میں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔