معروف مزاح نگار پطرس بخاری کی67ویں برسی آج منائی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
تعزیتی تقریبات میں پطرس بخاری کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا
پاکستان کے معروف مزاح نگار پطرس بخاری کی67ویں برسی(آج) 5 دسمبر جمعہ کو منائی جائے گی.
اس سلسلے میں ادبی حلقوں میں تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں پطرس بخاری کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
پطرس بخاری جن کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام پطرس بخاری سے مشہور ہوئے۔ ان کی معروف تصنیف میں پطرس کے مضامین بے حد مقبول ہے،انہیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کا اسپیچ رائٹر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ پطرس بخاری گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل بھی رہے ہیں معروف شاعر فیض احمد فیض اور ن م راشد ان کے شاگرد رہے ہیں،حکومت پاکستان نے ان کی 100ویں سالگرہ پر ان کی تصویر کے ہمراہ ایک یادگارڈاک ٹکٹ کا بھی اجراء کیا تھا انہیں ان کی وفات کے طویل عرصے بعد سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ پطرس بخاری5 دسمبر 1958 کو امریکا میں انتقال کر گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پطرس بخاری کی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔