’لابوبو ڈول‘ پر مبنی فلم بنانے کا منصوبہ، سونی پکچرز نے معاہدہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سونی پکچرز نے مقبول ’لابوبو ڈول‘ پر مبنی فلم تیار کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے، جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور یہ طے نہیں ہوا کہ فلم لائیو ایکشن ہوگی یا اینیمیشن تھرل۔
مزید پڑھیں: فاکس کارپوریشن ویڈیو اسٹریمنگ میں نیٹ فلکس کو پچھاڑنے کے لیے تیار
چینی کمپنی پاپ مارٹ کی ’لابوبو ڈولز‘ اس سال عالمی سطح پر ہلچل مچا چکی اور کئی مشہور شخصیات کے ہاتھوں میں دیکھی جا چکی ہیں۔ لابوبو کے ’بلائنڈ باکسز‘ شاپنگ کا نیا رجحان بن گئے ہیں، جن میں ڈولز کا ماڈل کھولنے تک معلوم نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: ’بیوٹی کوئین‘ مدھو بالا کی زندگی پر فلم بنانے کا باضابطہ اعلان
واضح رہے کہ سونی فلم نے پہلے بھی بچوں کے لیے ’جُمانجی‘ اور اینیمیشن ہٹ ’کےپاپ ڈیمن ہنٹرز‘ جیسی شہرہ آفاق فلمیں بنائی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چینی کمپنی پاپ مارٹ سونی پکچرز لابوبو ڈولز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سونی پکچرز لابوبو ڈولز کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔