نادرا کا تاریخی اقدام , پیدائش و اموات کی 100 فیصد رجسٹریشن کیلئے مربوط نظام فعال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
کلیم اختر:نادرا نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پیدائش اور اموات کی 100 فیصد رجسٹریشن یقینی بنانے کے لیے جدید اور خودکار نظام متعارف کرا دیا ہے۔
ڈی جی نادرا پنجاب فضہ شاہد کی زیر نگرانی سی آر وی ایس (Civil Registration and Vital Statistics) کا دو سالہ منصوبہ باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
اس نظام کے تحت پنجاب کے 4,500 سے زائد ہسپتال، بنیادی مراکز اور دیہی مراکز صحت کو نادرا سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ پیدائش یا وفات کی معلومات اب براہ راست اور خودکار طریقے سے متعلقہ یونین کونسل کو موصول ہو سکیں گی جس سے دیرینہ تاخیر اور پیچیدگیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی
شہری اب یونین کونسل کے دفتر کے ساتھ ساتھ نادرا موبائل ایپ کے ذریعے بھی پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔ ڈی جی نادرا پنجاب کے مطابق لیڈی ایچی سن ہسپتال میں پائلٹ پراجیکٹ کامیاب طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور اس نظام کے ذریعے 100 فیصد رجسٹریشن کا ہدف ممکن ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔