data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251203-01-16
اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈ یسک) یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین اور یورپی ممالک کے بغیر یوکرین میں امن معاہدے کو مسترد کر دیا۔ چائنا ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور دیگر یورپی رہنماؤں نے واضح طور پر یوکرینیوں اور یورپیوں کے بغیر یوکرین میں امن معاہدے کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ منجمد روسی اثاثوں، سلامتی کی ضمانتوں اور یوکرین کے یورپی یونین میں ممکنہ الحاق سمیت مسائل پر صرف یورپیوں کے ساتھ ہی حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج ایسا کوئی حتمی امن منصوبہ موجود نہیں ہے۔ اس موقع پر یوکرین کے صدر میر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے جنگ کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی، ٹھوس سیکورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مستقبل کے مذاکرات میں علاقائی مسئلہ سب سے مشکل ہوگا۔ قبل ازیں دونوں رہنمائوں نے دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں سے بھی بات چیت کی۔دریں اثنا جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ جرمنی یوکرینی قیادت پر کوئی امن منصوبہ زبردستی مسلط کرنے کی مخالفت کرے گا۔ لیٹویا کے صدر ایڈگرس رنکیوکس نے کہا کہ یوکرین میں ممکنہ امن معاہدے پر یورپ کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوکرین میں رہنماو ں کہا کہ

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی