لڑائی کی خواہش نہیں لیکن جنگ چھڑ گئی تو مکمل تیار ہیں، پیوٹن کی یورپی ممالک کو تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کیا تو روس تیسری عالمی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مزید پڑھیں: جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
عالمی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے کہاکہ روس کی یورپ سے لڑائی کی کوئی خواہش نہیں، اور وہ یہ بات متعدد بار دہرا چکے ہیں، تاہم اگر یورپی ممالک نے محاذ آرائی پر اصرار کیا تو روس جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پیوٹن نے خبردار کیاکہ حالات نہایت تیزی سے اس سطح تک جا سکتے ہیں جہاں مذاکرات کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔
انہوں نے یورپی ریاستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششیں ترک کی جائیں، کیونکہ روس اپنے دفاع سے خوب واقف ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی وفد امریکا میں موجود ہے جہاں یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات ہونے والے ہیں۔
مزید پڑھیں: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل
یہ بات چیت ان تجاویز پر کی جائے گی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کی قیادت کو پیش کی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews روسی صدر ولادیمیر پیوٹن وی نیوز یورپی ممالک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ولادیمیر پیوٹن وی نیوز یورپی ممالک یورپی ممالک
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔