پنجاب سیف سٹی ایپ کے نئے فیچر پر بحث اور تشویش، اصل وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی نئی موبائل ایپ ’پبلک سیفٹی‘ فیچر نے شہریوں میں شدید پرائیویسی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
گزشتہ روز متعارف کرائے گئے اس فیچر کے مطابق 15 پر ایمرجنسی کال کرنے کی صورت میں کالر کا موبائل کیمرہ خودکار طور پر لائیو اسٹریمنگ شروع کر دیتا ہے، جو براہ راست کنٹرول روم تک پہنچتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 18 کروڑ 30 لاکھ جی میل اکاؤنٹس کا ڈیٹا لیک، صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی
پی ایس سی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیچر واقعات کی تیزی سے تصدیق اور امدادی ٹیموں کی فوری روانگی کو ممکن بنائے گا، جو ممکنہ طور پر جان بچانے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
لیکن دوسری جانب ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹس کا کہنا ہے کہ مناسب ضابطہ سازی کے بغیر یہ فیچر شہریوں کی نجی زندگی پر سنگین حملہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ ایک مثبت قدم ہے وہیں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فیچر بڑے پیمانے پر نگرانی، غلط استعمال اور ذاتی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد: سیف سٹی پروجیکٹ کی بدولت، 2025 میں جرائم کی روک تھام میں نمایاں کامیابیاں
ماضی میں ایسی بے شمار مثالیں سب کے سامنے ہیں جہاں ٹریفک اور رولز کے نفاذ کے کیمروں کی فوٹیج پہلے ہی لیک ہو چکی ہے یا آن لائن شیئر کی گئی ہیں، وہاں ہر شخص کے موبائل فون کو ‘موبائل سیف سٹی کیمرہ’ بنانا خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ ڈاکٹر ہارون بلوچ کا کہنا تھا کہ پی ایس سی اے ایپ میں شامل کیا گیا لائیو اسٹریمنگ فیچر اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے استعمال، رسائی اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اور واضح قانونی فریم ورک موجود نہ ہو۔
ان کے مطابق اس فیچر کے ذریعے کسی بھی شہری کے موبائل کو فوری طور پر نگرانی کے آلے میں تبدیل کر دینا نہ صرف بڑے پیمانے پر نگرانی کے خدشات کو بڑھاتا ہے بلکہ ایسے ملک میں جہاں سرکاری کیمروں کی فوٹیج پہلے بھی لیک ہوتی رہی ہے، یہ اقدام شہریوں کی نجی زندگی کو شدید خطرات میں ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اہم حکومتی شخصیات کا ڈیٹا لیک: وزیر داخلہ نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی
انہوں نے واضح کیا کہ بغیر آزاد نگرانی، شفاف پالیسیوں اور سخت ضابطوں کے یہ فیچر غلط استعمال کا باعث بن سکتا ہے، جس سے شہریوں کی پرائیویسی، تحفظ اور بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔
ڈاکٹر ہارون بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ڈیٹا پروٹیکشن قانون فوری طور پر نافذ کیا جائے، فوٹیج تک رسائی محدود اور آڈٹ شدہ ہو، شہریوں کو ان کے ڈیٹا کے استعمال سے متعلق مکمل آگاہی دی جائے، اور اس نظام کی نگرانی ایک خودمختار ادارے کے سپرد کی جائے، ورنہ یہ ٹیکنالوجی تحفظ کے بجائے ہراسانی اور غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تاریخ کا سب سے بڑا ڈیٹا لیک، 16 ارب سے زائد پاس ورڈز افشا، اب کیا ہوگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیف سٹی سسٹم پہلے ہی شہر بھر میں نصب کیمروں کے وسیع نیٹ ورک، نمبر پلیٹ کی شناخت، اور بڑھتی ہوئی چہرہ شناسائی کی صلاحیتوں پر کام کر رہا ہے۔ واضح قانونی حدود کے بغیر کہ کون فوٹیج دیکھ سکتا ہے، محفوظ کر سکتا ہے یا شیئر کر سکتا ہے، لائیو اسٹریمنگ ایک نئے اور خطرناک مسئلے کو جنم دیتی ہے۔ اس سے ذاتی ڈیٹا کا بغیر کنٹرول کے جمع ہونا اور اس کے غلط استعمال کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں پیش آنے والا سیف سٹی کیمروں کا واقعہ آج بھی شہریوں کی یادوں میں تازہ ہے، جب اسلام آباد اور لاہور میں نصب سرکاری نگرانی کیمروں سے حاصل کی گئی درجنوں نجی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر وائرل ہو گئی تھیں۔ ان لیک شدہ ویڈیوز میں گاڑیوں کے اندر بیٹھے جوڑوں کی ریکارڈنگ، خواتین کے چہرے اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں تک واضح دکھائی دیتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت مفرور ملزم کی پہلی گرفتاری
اس واقعے نے شہریوں کی پرائیویسی، سیکیورٹی اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ حکام کی جانب سے اس بات سے انکار کیا گیا تھا کہ فوٹیج سیف سٹی نظام سے لیک ہوئی، لیکن اداروں کے اندرونی ذرائع کے مطابق کنٹرول روم میں موجود کچھ اہلکار ہی یہ ویڈیوز شیئر کر رہے تھے۔ اس واقعے نے پہلی بار بڑے پیمانے پر اس حقیقت کو بے نقاب کیا تھا کہ نگرانی کے ایسے نظام، جن کا مقصد سیکیورٹی کو بہتر بنانا ہے، اگر مناسب ضابطہ کاری اور سخت حفاظتی اقدامات کے بغیر چلائے جائیں تو وہ خود شہریوں کی نجی زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
سیف سٹی کیمراز کے حوالے سے شہری آج بھی تشویش میں رہتے ہیں۔ اور وہ سیف سٹی کیمراز کو اپنی ذاتی پرائیویسی کے حوالے سے بالکل بھی محفوظ نہیں سمجھتے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی اس ایپ کو نہ صرف ڈیجیٹیل سیکیورٹی کے ماہرین بلکہ عوام بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پرائیویسی پنجاب سیف سیٹی پولیس ڈیٹا لیک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرائیویسی پنجاب سیف سیٹی پولیس ڈیٹا لیک کا کہنا ہے کہ غلط استعمال شہریوں کی ڈیٹا لیک سیف سٹی سکتا ہے سٹی کی تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔