پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا، جہاں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کے آغاز میں ہی بُلش مومینٹم برقرار رہا۔

ابتدائی کاروباری سیشن میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں پھر تیزی، انڈیکس 167,000 کی حد عبور کر گیا

صبح 11 بج کر 25 منٹ پر کے ایس سی 100 انڈیکس 168,966.

68 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 904.49 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1063.17 points (+0.63%) at midday trading. Index is at 169,125.36 and volume so far is 156.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/ieLtqP0UFQ

— Investify Pakistan (@investifypk) December 2, 2025

مارکیٹ میں آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور او ایم سیز سمیت اہم شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی۔

انڈیکس پر اثر ڈالنے والی بڑی کمپنیوں جیسے ماری آئل، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز، لکی سیمنٹ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، بینک الاسلامی اور یونائیٹڈ بینک کے شیئرز بھی مثبت رجحان کے ساتھ ٹریڈ ہوئے۔

مزید پڑھیں: ’ایلیٹ کیپچر‘ پاکستانی معیشت کو کھربوں روپوں کا نقصان پہنچا رہا ہے، آئی ایم ایف

گزشتہ روز یعنی پیر کو بھی اسٹاک ایکسچینج نے دسمبر کے پہلے سیشن کا آغاز تیزی کے ساتھ کیا تھا۔

جہاں مضبوط ادارہ جاتی خریداری کے باعث بڑے انڈیکسز، مارکیٹ کیپٹلائزیشن اور ٹریڈنگ والیوم میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی۔

پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,384.50 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 168,062.19 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی منڈیوں میں منگل کو محتاط نوعیت کی تیزی دیکھنے میں آئی، کیونکہ کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں تیز گراوٹ اور جاپان میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کے باعث عالمی بانڈ مارکیٹ پر دباؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:معیشت میں بہتری: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے سرپلس میں آگیا

امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں معمولی استحکام دیکھا گیا، جبکہ جاپانی گورنمنٹ بانڈز پر 10 سالہ ییلڈ مزید بڑھ کر 1.88 فیصد کے ساتھ 17 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب، کرپٹو مارکیٹ میں اہم کرنسی بٹ کوائن نے پیر کو 5.2 فیصد کمی ریکارڈ کی اور 87,000 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی ہے، جو اکتوبر کی بلند ترین سطح سے تقریباً 30 فیصد کم ہے۔

ایشیا میں ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس پیر کی تیز گراوٹ کے بعد 0.5 فیصد اوپر آگیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بٹ کوائن بینک الاسلامی پاکستان حبیب بینک شرح سود کرپٹو مارکیٹ گورنمنٹ بانڈز لکی سیمنٹ مسلم کمرشل بینک یونائیٹڈ بینک

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بٹ کوائن بینک الاسلامی پاکستان کرپٹو مارکیٹ گورنمنٹ بانڈز لکی سیمنٹ یونائیٹڈ بینک

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ