پاکستان سمیت دنیا بھر میں پسند کی جانے والی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پیاری مریم انتقال کر گئیں۔

نرم لہجہ، معصوم انداز گفتگو اور روزمرہ زندگی کی سادہ مگر دل کو چھو لینے والی ویڈیوز نے انہیں لاکھوں دلوں میں جگہ دی تھی، ان کی اچانک موت کی خبر نے مداحوں، سوشل میڈیا صارفین اور شوبز حلقوں کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

پیاری مریم کی شادی انہی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے انفلوئنسر احسن علی سے ہوئی تھی، دونوں کی جوڑی نہایت پسند کی جاتی تھی اور جلد ہی اپنے خاندان میں خوشیوں کا اضافہ کرنے والے تھے، مریم جڑواں بچوں کی ماں بننے والی تھیں، دورانِ حمل بھی وہ مسکراتی ہوئی ویڈیوز شیئر کرتی رہیں اور ان کی خوشی ہر تصویر اور پوسٹ سے جھلکتی تھی۔

تاہم ڈلیوری کے دوران پیچیدگیوں نے انہیں سنبھلنے نہ دیا اور پیاری مریم اللّٰہ کو پیاری ہوگئیں جبکہ ان کے جڑواں بچے صحت مند اور حیات ہیں۔

یہ خبر سب سے پہلے مریم اور احسن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں پرائیویسی اور دعاؤں کی درخواست کی گئی۔

مداحوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات اور دعائیں بھیج رہی ہے، پیاری مریم کے چاہنے والے انہیں نہایت محبت سے یاد کر رہے ہیں اور ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیاری مریم سوشل میڈیا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی