پولیس عوام کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی،غلام نبی میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قنبرعلی خان (نمائندہ جسارت) انسپکٹر جنرل آف سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ سکھر، شکارپور، گھوٹکی اور کشمور میں اب کوئی بھی ایسا نوگو ایریا باقی نہیں رہا جہاں پولیس داخل نہ ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران ان چاروں اضلاع میں پولیس مقابلوں میں 198 جرائم پیشہ عناصر مارے گئے، جبکہ 520 کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ سنگین مقدمات میں مطلوب 800 سے زائد ملزمان کو بھی پولیس نے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے یہ بات سکھر کے ایک نجی اسپتال میں میڈیا سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ شکارپور میں پولیس مقابلے کے دوران زخمی ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی عیادت کے لیے پہنچے تھے۔ آئی جی سندھ کے مطابق صوبے بھر میں اشتہاری اور روپوش ملزمان کے خلاف جاری مہم کے دوران اب تک ایک ہزار سے زیادہ مطلوب افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے سندھ پولیس کی واضح پالیسی ہے کہ ہر نوگو ایریا میں داخل ہو کر جرائم پیشہ عناصر کو چیلنج کیا جائے۔ ’’جو ملزم پیش ہونا چاہے، ہم قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہیں، اور جو مقابلہ کرنا چاہے وہ بھی سامنے آجائے۔‘‘ آئی جی سندھ کے مطابق اس حکمتِ عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور متعدد جرائم پیشہ افراد نے خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے، جس سے امن و امان میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ امید ظاہر کی گئی کہ مزید ملزمان بھی جلد قانون کے سامنے سرنڈر کریں گے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس عوام کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ عوام اور پولیس ایک ساتھ کام کریں تاکہ جرائم کے خاتمے کے لیے کوششوں میں مزید بہتری آئے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز شکارپور میں پولیس مقابلے کے دوران 9 ڈاکو مارے گئے جبکہ دو زخمی ہوئے، دوسری جانب پولیس کے دو ڈی ایس پیز اور دو اہلکار زخمی ہوئے جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔غلام نبی میمن نے مزید کہا کہ پولیس میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں کو ہر صورت انعام دیا جاتا ہے۔ ’’جو اچھا کام کرے گا، اسے ضرور ایوارڈ دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز سے جدید اسلحہ خرید کر پولیس کے حوالے کیا جا چکا ہے، اور شکارپور کے حالیہ مقابلے میں یہی جدید اسلحہ استعمال کیا گیا، جس کے مؤثر نتائج سب کے سامنے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غلام نبی میمن انہوں نے کے دوران کے مطابق
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ