شکارپور،پولیس مقابلے میں 9 ڈاکو ہلاک،4 اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-11
شکارپور (نمائندہ جسارت) شکارپور میں پولیس اور ڈاکوؤں میں مقابلہ، دو ڈی ایس پیز سمیت 4 اہلکار زخمی ، 9 ڈاکو مارے گئے۔ ڈاکوؤں کی نعشیں مین چوک پر پڑی رہیں۔ شہری جمع ہوگئے، وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ کی پولیس ٹیم کو شاباش، زخمی اہلکار سکھر اسپتال داخل۔ تفصیلات کے مطابق شکارپور کے علاقے اسٹورٹ گنج تھانے کی حدود منچھر شاہ پیر کے قریب ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے آپریشن کیا اس دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ ہوا، ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سٹی میڈم پارس بکھرانی اور اس کے شوہر ڈی ایس پی گڑہی یاسین ظہور سومرو ، پولیس اہلکار منور بروہی سمیت 4 اہلکار زخمی ہو گئے، پولیس کی جوابی کارروائی میں 9 ڈاکو ہلاک ہو گئے، ہلاک ڈاکوؤں میں شہزاد، شہمور، امداد، ساجد، اویس، یاسین، آصف، کراڑو اور دیگر شامل ہیں۔ ہلاک ڈاکوؤں کا تعلق شیخ برادری سے ہے، جبکہ پولیس نے منچھر شاہ اور دیگر علاقوں کا مکمل محاصرہ کر لیا اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن دیر تک جاری رہا۔اس حوالے سے ایس ایس پی شکارپور شاہ زیب چاچڑ کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی آخری حد تک جاری رہے گی اور امن دشمن عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، زخمی ڈی ایس پی میڈم پارس بکھرانی ، ڈی ایس پی ظہور سومرو اور دیگر اہلکاروں کو سکھر کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار اور آئی جی سندھ کی جانب سے شکارپور میں کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، سندھ حکومت جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔دوسری جانب ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ نے سکھر اسپتال پہنچ کر ڈی ایس پیز اور دیگر اہلکاروں سے خیریت دریافت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈی ایس پی اور دیگر ڈاکوو ں
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔