شکارپور، پولیس کا بروقت ایکشن، ڈکیتی کی واردات ناکام، ایک ڈاکو ہلاک، پانچ فرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
شکارپور:
شکارپور کے علاقے جاگن لنک روڈ پر ڈکیتی کی اطلاع پر پہنچنے والی اسٹورٹ گنج پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو ہلاک جبکہ اس کے پانچ ساتھی فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی شکارپور شاہزیب چاچڑ کے مطابق پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی۔
پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو کی شناخت نادر مہر سکنہ رستم کے نام سے ہوئی ہے، جو اقدامِ قتل، پولیس مقابلوں، ڈکیتی اور دیگر سنگین نوعیت کے 11 مقدمات میں مطلوب تھا۔
موقع پر موجود ڈاکو دو موٹر سائیکلز پر گلاب سعد خانانی، واجد سومرو اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ واردات کی نیت سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔
ڈکیتوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، جس پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔
فائرنگ کے نتیجے میں نادر مہر ہلاک ہوگیا جبکہ دیگر پانچ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ہلاک ڈاکو کے قبضے سے کلاشنکوف، میگزین اور گولیاں برآمد کر لی گئیں۔ نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی شکارپور کے مطابق فرار ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔