حیدرآباد پولیس کے مقابلے، ایک ملزم ہلاک، 2ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-8-5
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد پولیس نے مبینہ تین پولیس مقابلوں میں ایک ملزم ہلاک جبکہ 2ڈاکوئوں کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ، مسروقہ سامان برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس کے مطابق مارکیٹ پولیس نے شیدہ پاڑہ بکراپیڑی کے قریب دوران چیکنگ 2 افراد موٹر سائیکل پر سوار کو روکنے کا اشارہ کیا جس نے پولیس پر فائرنگ کردی ،جوابی فائرنگ سے ایک ملزم عارف عرف بھورا قریشی کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اس کے قبضے سے نائن ایم ایم پستول برآمد کرکے طبی امداد کیلیے ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گیا جبکہ اس کا ساتھی موٹرسائیکل سمیت فرار ہوگیا۔ ملزم عارف عرف بھورا قریشی کراچی، حیدرآباد اور نواب شاہ پولیس کو 24سے زائد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ مکی شاہ پولیس پارٹی نے کینٹ قبرستان کے قریب سے 2 مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کا اشارہ کیا جس پر ملزمان نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی ، جوابی فائرنگ سے ایک ملزم رضا محمد جوکہ ٹنڈوالہیار کا رہائشی تھا کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اس قبضے سے اسلحہ اور چھینے گئے موبائل فون برآمد کرکے طبی امداد کیلیے اسپتال منتقل کردیاجبکہ اس دوسرا ساتھی موٹر سائیکل سمیت فرار ہوگیا ۔اسی طرح راہوکی تھانہ کی حدود زرداری فارم کے قریب پولیس کے روکنے پر مشکوک موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی جس پرجوابی فائرنگ سے ایک ملزم اصغر علی شاہ جوکہ لاڑکانہ کا رہائشی تھا کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اس کے قبضے سے نائن ایم ایم پستول برآمد کرکے طبی امداد کیلیے سول اسپتال منتقل کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے موٹر سائیکل برآمد کرکے ایک ملزم
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز