وزیراعلیٰ کی زخمی پولیس افسران واہلکاروں کوبہترین طبی سہولیات دینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے شکارپور میں ڈاکوؤں کے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ ڈاکو گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور ضلع میں مکمل امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ نے ڈی۔ایس۔پی سٹی شکارپور پارس بکھرانی، ڈی ایس پی گڑھی یاسین ظہور سومرو اور چار زخمی اہلکاروں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمال شاہ کو ہدایت کی کہ ضرورت پڑنے پر زخمی افسران کے لیے ایئر ایمبولینس کا انتظام کریں تاکہ انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ جو ڈاکو سرنڈر نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ پولیس کو شکارپور میں ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور شکارپور میں امن کی بحالی ضروری ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن نے وزیراعلیٰ کو منچر شاہ، شکارپور میں ہونے والی تازہ کارروائی سے متعلق بریفنگ دیوزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت انسدادِ پولیو کے صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس نے وزیر اعلیٰ ہاؤس یں منعقد ہوا۔وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل اور ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے وزیراعلیٰ سندھ کو قومی و صوبائی صورتحال پر بریفنگ دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شکارپور میں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔