سنجھورو،رہزنی کی واردات،آرائیں برادری کی بروقت کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سنجھورو(نمائندہ جسارت)سنجھورو کے قریب بٹور شاخ پر رہزنی کی واردات آرائیں برادری کی بروقت کارروائی، ایک روزن گرفتار2 فرار۔ تفصیلات کے مطابق سنجھورو کے نزدیک بٹور شاخ پر سنجھورو کے قریب آرائیں برادری کے محنت کش عرفان آرائیں نعمان کے ساتھ رہزنی کی واردات پیش آئی، جس پر برادری کے نوجوانوں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے رہزنوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران گوٹھ چودھری عبدالغنی آرائیں، گوٹھ حاجی یعقوب آرائیں، گوٹھ حاجی عبدالعزیز آرائیں اور گوٹھ چودھری غلام حسین آرائیں کے نوجوانوں نے بھرپور ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کیا۔اور سنجھورو پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او سنجھورو محمد علی زرداری پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ عوام اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں گنے کی فصل سے ایک رہزن کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے قبضے سے پستول اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی، جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آرائیں برادری کے رہنماؤں نے ایس ایس پی سانگھڑ، ڈی ایس پی سنجھورو اور ایس ایچ او سنجھورو سے مطالبہ کیا ہے کہ آرائیں قوم ایک محنت کش برادری ہے، جسے عرصے سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ عوام کا تحفظ ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اس لیے ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور بٹور شاخ پر پولیس کی نفری تعینات کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔