سنجھورو،رہزنی کی واردات،آرائیں برادری کی بروقت کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-2-13
سنجھورو(نمائندہ جسارت)سنجھورو کے قریب بٹور شاخ پر رہزنی کی واردات آرائیں برادری کی بروقت کارروائی، ایک روزن گرفتار2 فرار۔ تفصیلات کے مطابق سنجھورو کے نزدیک بٹور شاخ پر سنجھورو کے قریب آرائیں برادری کے محنت کش عرفان آرائیں نعمان کے ساتھ رہزنی کی واردات پیش آئی، جس پر برادری کے نوجوانوں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے رہزنوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران گوٹھ چودھری عبدالغنی آرائیں، گوٹھ حاجی یعقوب آرائیں، گوٹھ حاجی عبدالعزیز آرائیں اور گوٹھ چودھری غلام حسین آرائیں کے نوجوانوں نے بھرپور ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کیا۔اور سنجھورو پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او سنجھورو محمد علی زرداری پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ عوام اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں گنے کی فصل سے ایک رہزن کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے قبضے سے پستول اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی، جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آرائیں برادری کے رہنماؤں نے ایس ایس پی سانگھڑ، ڈی ایس پی سنجھورو اور ایس ایچ او سنجھورو سے مطالبہ کیا ہے کہ آرائیں قوم ایک محنت کش برادری ہے، جسے عرصے سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ عوام کا تحفظ ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اس لیے ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور بٹور شاخ پر پولیس کی نفری تعینات کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔