سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی، فیملی محفوظ رہی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، تاہم پولیس اور فائربریگیڈ کے حکام نے واقعے کی مزید وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں اس وقت راو انوار کی فیملی موجود تھی جو گھر سے ایئرپورٹ کی جانب جا رہی تھی۔ آتشزدگی کے باوجود گاڑی میں سوار تمام افراد محفوظ رہے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی ایئرپورٹ کے قریب سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گاڑی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس اور فائربریگیڈ کی ایک گاڑی فورا موقع پر پہنچ گئی اور بروقت کارروائی کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں اس وقت راو انوار کی فیملی موجود تھی جو گھر سے ایئرپورٹ کی جانب جا رہی تھی۔ آتشزدگی کے باوجود گاڑی میں سوار تمام افراد محفوظ رہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، تاہم پولیس اور فائربریگیڈ کے حکام نے واقعے کی مزید وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق گاڑی میں انوار کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔