وزیرِاعلیٰ سندھ کی تمام محکموں کے ٹینڈر ای پیڈ سسٹم کے تحت دینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شفافیت کے لیے ای پیڈ کا استعمال لازمی قرار دے دیا۔
ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سندھ نے تمام محکموں کو ٹینڈر ای پیڈ سسٹم کے ذریعے جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مراد علی شاہ نے صوبے میں شفافیت کے لیے ای پیڈ کا استعمال لازمی قرار دیا ہے اور کہا کہ صوبے میں تمام تر سرکاری آلات کی خریداری ای پیڈ کے تحت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ کے تمام محکمے خریداری ای پیڈ سسٹم سے عمل میں لائیں، شفاف نظام سے ہی عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔
وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ ٹینڈرنگ میں ای پیڈ کے علاوہ کوئی متبادل قابلِ قبول نہیں، ای پیڈ ملک بھر کے پروکیورمنٹ سسٹمز کے ساتھ منسلک ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ای پیڈ سسٹم سے قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے مسابقت کا عمل مضبوط اور مواقع میں اضافہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیڈ سسٹم
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔