وزیر اعظم کی گوادر اور گلگت بلتستان کو بجلی میں خودکفیل بنانے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کا مقصد توانائی کے مسائل اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا تھا۔
اجلاس میں گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی کے مسائل ختم کرنے کے لیے جامع منصوبے پر فوری عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وزارت توانائی کے اقدامات سے گوادر میں بجلی تعطل میں 42 فیصد کمی آچکی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ چھ ماہ میں گوادر میں بجلی کی وولٹیج مستحکم کرنے کے لیے جامع پلان پر عمل ہوگا۔ گھریلو اور کاروباری صارفین کو مسلسل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔
قلیل مدتی منصوبوں کے تحت آئندہ 8 سے 12 ماہ میں بڑے سرکاری اداروں میں 9.
گلگت بلتستان میں چھتوں اور یوٹیلیٹی سطح پر سولر منصوبے 2027 تک مکمل کیے جائیں گے۔ ان مشترکہ منصوبوں سے حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہوگی۔
وزیراعظم نے 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں صاف اور مستحکم بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی وفاقی حکومت کی ترجیح ہے جبکہ گوادر میں بلاتعطل بجلی اور سہولتوں سے بندرگاہ کو عالمی معیار کا معاشی مرکز بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجلی کی فراہمی گلگت بلتستان گوادر میں میں بجلی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔