مریم اورنگزیب/ اسکرین گریب 

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی انا اور پاگل پن کا سلسلہ نیا نہیں، انہوں نے پہلے بھی حکومت کے خلاف غلیظ اور بدتمیزی پر مبنی گفتگو کی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی اپنے نامناسب بیان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا، 9 مئی کو300 سے زائد عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ملکی سلامتی اور استحکام کی مخالفت کرنے کی سزا آئین میں موجود ہے۔

 مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک دشمن کے ساتھ نیکسز بنا کر ملک کے خلاف دشمنی کریں گے تو وہ آزادی رائے نہیں، ذہنی مریض کے ساتھ ذہنی ڈاکٹر مذاکرات کر سکتا ہے، ان کو سمجھاؤ تو آگے سے گالی دیتے ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ فارن فنڈنگ بول رہی ہے، جو اسرائیل اور بھارت سے آئی، آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں کہ ان کی مدد نہ کرو، آپ کو قومی سلامتی پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، آپ سے کون پوچھ رہا ہے کہ 27 ویں ترمیم منظور ہے یا نہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اداروں پر حملے، آرمی چیف کو متنازع بنانا کیوں، آج پاکستان کے دفاع اور سلامتی و استحکام کا معاملہ ہے، شہیدوں کے مجسمے نیچے گرا کر انہیں ٹھڈے مارے گئے،  وفاق میں نفاق پھیلانے والے کو غدار کہا جاتا ہے، ایسے عناصر سے ملک دشمن کی طرح نمٹا جائے گا، بس بھی ہوتی ہے، انف از انف۔

انہوں نے کہا کہ  بہنیں بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر ملک کو متنازع کرتی ہیں، اس کی کسی کو اجازت نہیں، آپ جیل میں اپنے اعمالوں کی وجہ سے ہیں، آپ نے بطور وزیراعظم جو کرپشن کی ہے اس کی سزا کاٹ رہے ہیں، ملک کی تاریخ میں ایک ہی 9 مئی ہوسکتا ہے، بار بار نہیں ہوسکتا، ہر طرف ترقی کے سورج طلوع ہو رہے ہیں، تمہیں یہ تکلیف ہے، ملک اور افواج کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، تمہیں یہ تکلیف ہو رہی ہے،  تمہارا جھوٹا نقاب اتر چکا ہے، عوام کو تمہاری اصلیت پتہ چل چکی ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ہم ملک دشمنوں کے خلاف کارروائی کریں گے، آئین میں ملک دشمن کی سزا بہت واضح لکھی ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی بھارتی سازش کو کامیاب کر ر ہے ہیں، بانی کے بیان سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے، آپ کو گرفتار اس لیے کیا گیا کیونکہ آپ نے ملک کو نقصان پہنچایا، آزادی رائے کے نام پر ملک کے ساتھ دشمنی نہیں کرنے دیں گے، جواس لائن کو کراس کرے گا اس کے لیے وہی سزا ہوگی جو آئین کہتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف