شعبہ صحت میں سرمایہ کاری سے متعلق رکاوٹیں دور کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کی جانب سے پاکستان کے شعبہ صحت میں سرمایہ کاری سے متعلق تمام رکاوٹیں دور کی جائیں، اور ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا قابلِ عمل روڈ میپ تیار کرکے پیش کیا جائے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کے وفد نے ملاقات کی، جس میں وفد نے پاکستان کے صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے وزیرِ اعظم کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ملک میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کے وفد کی ملاقات
امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز کا وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کے صحت کے شعبے کی ترقی پر وزیرِ اعظم کو خراج تحسین، پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار.
وزیرِ اعظم کی اقتصادی… pic.twitter.com/vzW5NdMAE9
— PTV News (@PTVNewsOfficial) December 8, 2025
وفد نے اس اعتماد کا اظہار کیاکہ موجودہ حکومت کی ترجیحات اور اصلاحات سے پاکستان کا ہیلتھ سیکٹر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور وہ پاکستان میں جدید طبی سہولیات کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر سمیر شفیع کی سربراہی میں آنے والے وفد میں ڈاکٹر جواد شاہ، ڈاکٹر تجمل حسین، ڈاکٹر نعمان حیدر اور سماجی رہنما رانا زاہد امیر شامل تھے۔
ملاقات میں چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد اور ڈاکٹر سعید اختر بھی شریک ہوئے۔
وزیراعظم نے وفد سے گفتگو میں کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ماہرینِ طب ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، اور حکومت ان کے تجربات اور سرمایہ کاری کو سہولت دینے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی ڈاکٹرز سرمایہ کاری شعبہ صحت شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وفد ملاقات وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ڈاکٹرز سرمایہ کاری شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وفد ملاقات وی نیوز میں مقیم پاکستانی میں سرمایہ کاری شہباز شریف اعظم کی کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز