Express News:
2026-06-03@05:59:12 GMT

پاکستان اور مصر کا مشترکہ معاشی لائحہ عمل پر اتفاق

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

پاکستان اورمصر کی اقتصادی شراکت داری میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں دونوں ممالک نے مشترکہ معاشی لائحہ عمل پر اتفاق کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان اور مصرکے مابین اقتصادی شراکت داری ، تجارت، سرمایہ کاری اور شعبہ جاتی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ 

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی مصر کے وزیر سرمایہ کاری حسن الخطيب سے 'ڈی-8  ' کے تجارتی وزراءکونسل کی میٹنگ کے دوران اہم  ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک کو بڑھانے پر تفصیلی گفتگو  ہوئی۔ پاکستان اور مصرنے ٹیکسٹائل، زراعت، فارما اور دیگر شعبہ جات میں شراکت داری بڑھانے پر زور دیا۔

بندرگاہوں تک باہمی رسائی اور ویزا سہولیات کے ذریعے تجارت کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ڈیجیٹل جدید کاری سے پاکستان اورمصرکا  اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

علاوہ ازیں ترجیحی شعبوں کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے اور پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے  اقتصادی تعلقات، بی ٹو بی  روابط اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ایس آئی ایف سی کے موثر اقدامات سے پاکستان کے تجارتی و صنعتی شعبے ترقی کی راہ پر مسلسل گامزن ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور سرمایہ کاری پر اتفاق

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر