قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے‘سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251207-01-8
پشاور(صباح نیوز)وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہاہے کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے اور تمام فیصلے اسی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا توانائی
کے شعبے میں خود کفالت اور آمدنی کے نئے ذرائع کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ہفتے کووزیر اعلی سہیل آفریدی کی زیر صدارت میران بلاک کے شیئرز کی پارٹنر اداروں کو منتقلی کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں صوبائی وزیر ریاض خان، معاونِ خصوصی شفیع جان، ممبر قومی اسمبلی شہریار آفریدی، ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک، ممبران صوبائی اسمبلی اور متعلقہ حکام شریک تھے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ میران بلاک کے 49 فیصد شیئرز او جی ڈی سی ایل کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جبکہ 51 فیصد شیئرز کے پی او جی سی ایل کے پاس رہیں گے۔ میران بلاک کنسورشیم کی قیادت او جی ڈی سی ایل کرے گا، جبکہ جی ایچ پی ایل اور پی پی ایل اس کے شراکت دار ہوں گے۔ بریفنگ کے مطابق کنسورشیم کے تحت کے پی او جی سی ایل کے 51 فیصد شیئرز کی سرمایہ کاری بھی فراہم کی جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریبا 22 ارب روپے کی سرمایہ کاری خیبر پختونخوا میں آئی ہے۔ اس معاہدے سے صوبائی حکومت اور کے پی او جی ڈی سی ایل کو 12 ارب روپے کی نمایاں بچت ہوئی۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کی تلاش و دریافت کے نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔ تیل و گیس کی دریافت سے مقامی روزگار، کاروبار اور صنعت کو بھرپور فروغ ملے گا۔ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے اور تمام فیصلے اسی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور آمدنی کے نئے ذرائع کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صوبے میں سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے امن و امان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ توانائی کے منصوبوں پر معمول سے ہٹ کر کام جاری ہے اور صوبائی حکومت سرمایہ کاری اور صنعتی شعبے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی سرمایہ کاری سی ایل
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔