Juraat:
2026-06-03@00:59:50 GMT

چائلڈ لیبر جبری مشقت کا بڑھتا دائرہ اور سماجی بے حسی

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

چائلڈ لیبر جبری مشقت کا بڑھتا دائرہ اور سماجی بے حسی

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

بچے پھول ہوتے ہیں، مگر ہمارے معاشرے کی سختیاں ان کے چہروں پر وقت سے پہلے ہی اداسی کی لکیریں کھینچ دیتی ہیں۔ ان کے چھوٹے چھوٹے خواب، جو اصل میں تتلیوں کی طرح رنگ بکھیرنے چاہئیں، غربت، افلاس اور محرومی کی گرد میں اَٹ کر مدھم پڑ جاتے ہیں۔ محبت جب دسترس میں نہ رہے تو معصومیت کی آنکھوں میں خوف کے سائے اُتر آتے ہیں اور یہ سائے بچپن کی روشنی چھین لیتے ہیں۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس یہ بچے صرف رزق کے ٹکڑے نہیں ڈھونڈتے بلکہ اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کی کرچیاں بھی چنتے پھرتے ہیں۔ ان کی ہنسی کی جگہ فکری بوجھ لے لیتا ہے ، کھیل کی جگہ ذمہ داری آ جاتی ہے ، اور ننھے ہاتھوں میں کھلونے نہیں بلکہ مشقت کی تھکن بھر دی جاتی ہے ۔ اس سب کے باوجود ان کے دل میں امید کی ایک ایسی شمع روشن رہتی ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتی، اور یہی امید ہمیں روز یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان پھولوں کو مرجھانے سے بچا سکتے ہیں، ان کے خوابوں کو بھیانک صورت اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں، اور ان کی آنکھوں میں دوبارہ وہی روشنی، وہی رنگ اور وہی مسکراہٹ لوٹا سکتے ہیں جو ہر بچے کا بنیادی حق ہے ۔
دنیا کے نقشے پر جبری مشقت، چائلڈ لیبر اور قرضِ غلامی اگرچہ پرانے زمانوں کے الفاظ لگتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کے دورِ جدید میں بھی انسانوں کے استحصال کی کئی ایسی شکلیں موجود ہیں جو ہمارے سامنے ہونے کے باوجود ہمیں پوری شدت کے ساتھ دکھائی نہیں دیتیں۔ سندھ میں جبری و چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کا عالمی دنِ برائے انسدادِ غلامی پر منعقدہ مشاورتی اجلاس اسی تلخ حقیقت کی جانب ایک بار پھر توجہ دلاتا ہے ۔ یہ اجلاس کسی رسمی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ سماج کے اُن پہلوؤں کا عکاس تھا جو ہمارے نظام، قانون، معاشرتی رویّوں اور کمزور طبقات کی بے بسی کے درمیان ایک پیچیدہ مگر حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بچوں، خصوصی افراد، خواتین اور معاشی طور پر مجبور مزدوروں پر جو دباؤ موجود ہے ، وہ محض قانونی زبان میں درج دفعات سے ختم نہیں ہوسکتا؛ اس کے لیے عملی حکمت عملی، ادارہ جاتی تعاون اور سماجی شعور کی شدید ضرورت ہے ۔اس اجلاس میں کمیشن کی ممبر بیرسٹر رِدا طاہر نے جو نکات بیان کیے ، وہ نہ صرف قانونی پس منظر کی وضاحت کرتے ہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی ہیں۔ سندھ بونڈیڈ لیبر سسٹم ایکٹ 2015 اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2021کا بنیادی مقصد بچوں سمیت ہر کمزور فرد کو استحصال سے بچانا ہے ۔ بیرسٹر رِدا طاہر کا یہ کہنا کہ 18سال سے کم عمر ہر بچہ ریاست کی ذمہ داری ہے ، اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی معیارات کے عین مطابق ہے ، مگر مسئلہ یہ نہیں کہ قانون کیا کہتا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور کیا اس پر مؤثر عمل ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے 2018 میں نافذ کیے گئے اسمگلنگ و ٹریفکنگ ایکٹس کے مؤثر استعمال پر زور دے کر اس پہلو کی نشاندہی کی کہ جب تک قانونی ڈھانچہ فعال نہ ہو، کمزور افراد ہمیشہ خطرے میں رہتے ہیں۔
کمیشن کے رکن اور رکنِ سندھ اسمبلی بیرسٹر شیراز شوکت راجپر نے اجلاس میں بتایا کہ سندھ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ میں 2021کی ترمیم کے بعد بچوں سے متعلق بدسلوکی کی تعریف زیادہ جامع کر دی گئی ہے ، جس کے باعث چائلڈ لیبر، بچوں کو بھیک منگوانے اور اُن کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مؤثر ہوسکتی ہیں۔ مگر یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جامع تعریفیں اُس وقت تک کوئی عملی فائدہ نہیں دیتیں جب تک ادارے انہیں سمجھ کر نافذ نہ کریں۔ بدسلوکی، استحصال، جسمانی و ذہنی اذیت، تجارتی فائدے کے لیے بچوں کا استعمال یہ سب قانونی زبان میں جرم ہیں مگر زمینی حقیقت میں یہ جرائم اکثر نظرانداز ہوجاتے ہیں یا اُن کی شکایات دب جاتی ہیں۔ بچوں کے مفاد کا تحفظ ایک حساس ترین ذمہ داری ہے ، جو نہ صرف ریاست بلکہ معاشرے کی اجتماعی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے ۔
سیکریٹری کمیشن آغا فخر حسین نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ غلامی جدید دور میں مختلف شکلوں میں موجود ہے ۔ اگرچہ ظاہری غلامی کا نظام ختم ہوگیا ہے ، مگر معاشی مجبوری، قرضِ غلامی، کم اجرت، محدود روزگار، جبری مشقت، کم عمر بچوں سے اوور ٹائم کرانا اور خواتین کی غیر محفوظ مزدوری یہ سب ایسی شکلیں ہیں جنہیں جدید غلامی کے زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔ اگر کوئی مزدور اپنے مالک کے قرض کے بوجھ تلے نسل در نسل دبا رہے اور اپنی مزدوری، نقل و حرکت یا فیصلوں پر خود اختیار نہ رکھ سکے تو یہ غلامی ہی ہے ، چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے ۔
تحسین فاطمہ نے اجلاس میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ضلع ویجیلنس کمیٹیوں کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ یہ کمیٹیاں بونڈیڈ لیبر اور چائلڈ لیبر کے کیسز کو براہِ راست دیکھتی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کئی اضلاع میں یہ کمیٹیاں غیر فعال ہیں یا اُن کے پاس وسائل اور تربیت کی کمی ہے ، جس کے باعث ان کی کارکردگی محدود رہ جاتی ہے ۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ تعلیمی سہولیات کی کمی اور معاشی دباؤ چائلڈ لیبر کے اصل اسباب ہیں۔ جب ایک گھر کا معاشی بوجھ بچوں تک منتقل ہوجائے اور تعلیم اُن کی پہنچ سے دور ہو، تو بچے مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسے میں قانون محض کاغذ پر رہ جاتا ہے اور بچے بچپن کی بجائے محنت کا بوجھ اٹھانے لگتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ سماجی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے ۔
پاکستان لیگل یونائیٹڈ سوسائٹی کے سی ای او الطاف کھوسو نے خصوصی بچوں اور خصوصی افراد کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا مطالبہ کر کے اس کمی کی طرف توجہ دلائی کہ معاشرے کے سب سے کمزور افراد کے لیے ایک الگ قانونی نظام کی ضرورت ہے ۔ خصوصی افراد کے استحصال کے کیسز عام عدالتوں میں اکثر تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں یا مناسب مہارت نہ ہونے کے باعث پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ تجویز اس حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ کمزور طبقے کو عام شہریوں کے برابر تحفظ دینے کے لیے خصوصی ڈھانچے کی ضرورت ہے ۔سماجی کارکن ماہین عارف نے قرضِ غلامی کو جدید غلامی کی بنیادی وجہ قرار دیا، جو بالکل درست ہے ۔ پاکستان اور خصوصاً سندھ کے زرعی علاقوں میں یہ مسئلہ دہائیوں سے موجود ہے ۔ ایک مزدور معمولی رقم کا قرض لیتا ہے مگر اس پر سود یا فریق کے کنٹرول کی وجہ سے یہ قرض کبھی ختم نہیں ہوتا۔ نہ مزدور کی آزادی برقرار رہتی ہے نہ اس کی نسلوں کی۔ بونڈیڈ لیبر کی یہ شکل انسانی وقار پر کاری ضرب ہے ۔ قانون واضح طور پر اس عمل کو جرم قرار دیتا ہے ، مگر عملدرآمد کا فقدان اسے آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے ۔لیبر ڈپارٹمنٹ کراچی کے ریجنل ڈائریکٹر سید اطہر علی شاہ نے اس حقیقت کی وضاحت کی کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کے کیسز بھی لیبر کورٹس میں نمٹائے جا رہے ہیں جبکہ کم از کم اجرت نہ دینا، بغیر معاوضہ اوور ٹائم کرانا اور بچوں کو محنت پر لگانا جبری مشقت کی واضح شکلیں ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ 1996 میں چائلڈ لیبر کی شرح 20 فیصد تھی اور اب کم ہو کر 10 فیصد رہ گئی ہے ، بظاہر ایک بہتری کی نشاندہی کرتا ہے ، مگر یہ 10 فیصد بھی لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے ۔ یہ تعداد محض ایک عدد نہیں بلکہ اُن بچوں کی کہانیاں ہے جو قلم اور کتاب کی جگہ مزدوری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پرایس ایچ آر سی نے واضح انداز میں یہ بات کہی کہ قانون پر سخت عملدرآمد، محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری اور عوامی آگاہی کے بغیر سندھ میں بچوں اور مزدوروں کو استحصال سے محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ قانون محض ایک فریم ورک دیتا ہے ، مگر اسے فعال بنانا ریاست، اداروں، عدالتوں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ اگر والدین کو معلوم ہو کہ چائلڈ لیبر بچے کی زندگی تباہ کرتی ہے ، اگر مزدور کو معلوم ہو کہ اس کے حقوق کیا ہیں، اگر ادارے بروقت کارروائی کریں، اگر عدالتیں مؤثر فیصلے دیں اور اگر معاشی عدم مساوات کم ہوتو جدید غلامی کے مقابلے میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کی جاسکتی ہے ۔ اس کے بغیر معاشرے کا کمزور طبقہ ہمیشہ خطرے میں رہے گا۔
سندھ کو نہ صرف مزید فعال ویجیلنس کمیٹیوں کی ضرورت ہے بلکہ اسکولوں میں داخلے کی شرح بہتر بنانے ، غریب خاندانوں کو مالی معاونت دینے ، جبری مشقت کی شکایات کے فوری ازالے ، بونڈیڈ لیبر کے مراکز کے خاتمے اور تمام اضلاع میں لیبر انسپکٹرز کو بااختیار بنانے کی بھی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں یہ شعور بھی مضبوط کرنا ہوگا کہ کم عمر بچوں سے محنت لینا معاشی مجبوری نہیں بلکہ ایک جرم ہے ۔ جب مزدور اپنی محنت کا پورا معاوضہ لے گا، جب بچوں کو اسکول میں جگہ ملے گی، جب قانون پر مؤثر عمل ہوگا، جب محکمہ جاتی رابطے مضبوط ہوں گے اور جب عوام جدید غلامی کی شکلوں کو پہچان کر اُن کے خلاف آواز اٹھائیں گے تب ہی سندھ میں جبری و چائلڈ لیبر کا حقیقی خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بونڈیڈ لیبر جدید غلامی چائلڈ لیبر ہیں بلکہ کہ قانون ضرورت ہے لیبر کے بلکہ ا میں یہ کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟