تھانہ حیدری کی حدود گٹکا ماوا کی منڈی میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
سپا، یونس بالو اور خنان موٹا کا دھندہ بے خوفی کے ساتھ عروج پر، تھانے دار موج میں
قانون نافذ کرنیوالے ادارے غائب جبکہ گٹکا ماوا مافیا پورے زور پر سرگرم، علاقہ مکین
(رپوٹ؍ ایم جے کے)تھانہ حیدری کی حدود گٹکا ماوا کی منڈی میں تبدیل، سپا، یونس بالو اور خنان موٹا کا دھندہ بے خوفی کے ساتھ عروج پر، تھانے دار موج میں، قانون نافذ کرنے والے ادارے غائب جبکہ گٹکا ماوا مافیا پورے زور پر سرگرم، علاقہ مکین۔ علاقہ حیدری ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ حیدری کی حدود میں گٹکا ماوا کی منڈی میں تبدیل جبکہ تھانہ حیدری ایس ایچ او موج میں، تھانہ حیدری کی حدود میں گٹکا ماوا کا دھندہ بے خوفی کے ساتھ عروج پر پہنچ چکا ہے، جبکہ تھانیدار صاحب مکمل طور پر بے خبر یا بے فکر نظر آتے ہیں، علاقہ ذرائع نے مزید بتایا کہ علاقے میں سِپا کا ماوا کھلے عام فروخت ہو رہا ہے، یونس بالو تو علاقے میں گٹکا ماوا کا چیمپئن بن بیٹھا ہے اور حَنان موٹا کا زہریلا گٹکا ماوا کسی روک ٹوک کے بغیر فروخت جاری ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقہ حیدری کی حدود میں جرائم کی جگہوں سے غائب نظر آتے ہیں جبکہ سماج دشمن عناصر گٹکا ماوا مافیا سپا، یونس بالو اور خنان موٹا پورے زور پر علاقہ حیدری کی حدود میں جرائم میں سرگرم ہیں، اس صورتحال نے نوجوانوں اور کم عمر بچوں کی صحت پر خطرناک اثرات ڈال دیے ہیں ہر کوئی گٹکا ماوا استعمال کی لت میں پڑ چکا ہے لیکن متعلقہ پولیس تھانہ حیدری کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی اب تک نظر نہیں آئی، علاقہ حیدری کی عوام کا مطالبہ ہے کہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ احکام فوری نوٹس لیں، ورنہ حیدری کا علاقہ پورا کا پورا "گٹکا ماوا حب” بن جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تھانہ حیدری کی حدود حیدری کی حدود میں علاقہ حیدری یونس بالو گٹکا ماوا کا ماوا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔