لڑکی کے بال کاٹنے کا معاملہ، ملزمان کے جسمانی ریمانڈ و ڈسچارج کرنے کی درخواستیں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
راولپنڈی میں ٹک ٹاکر ایمان فاطمہ کے بال کاٹنے کے معاملے پر گرفتار دو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ اور ڈسچارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
سول جج صوفیہ ملک نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ دونوں ملزمان انیس عرف درانی اور جلیل عرف مٹھو کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا۔
دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے منظور کر لی گئیں۔ عدالت نے کل ہفتہ 6 دسمبر کو ریکارڈ طلب کر لیا۔
تفتیشی افیسر نے کہا کہ ملزمان سے بال کاٹنے کی قینچی برآمد کرنی ہے جبکہ وکیل نے کہا کہ مدعیہ غائب ہے۔
ٹک ٹاکر ایمانفاطمہ نے مقدمہ پیروی سے انکار کر دیا، یہ دو ماہ پرانا واقعہ ہے۔ ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتی اور نا مقدمہ درج کروایا۔
والد ملزم جلیل نے کہا کہ میرے بیٹے کو اس مقدمے میں پہلے تھانہ لوئی بھیر اسلام آباد نے گرفتار کیا۔ والد شیر دل خان نے کہا کہ تھانہ لوئی بھیر کیس ختم اور راضی نامہ ہوگیا تھا۔
تھانہ نصیرآباد پولیس پرسوں رات گھر سوئے بیٹے جلیل کو گرفتار کر کے لے گئی۔ ملزم کے والد کے مطابق پہلے بیٹوں کو پکڑام پانچ دن تھانے رکھا، پھر چھوڑ دیا اور اب دوبارہ پکڑ لیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔