وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں بچوں کی جبری مشقت کے مکمل خاتمے کے لیے ایک پندرہ رکنی سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب ہوں گی جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا شریک چیئرمین مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی میں اسکول ایجوکیشن، سرمایہ کاری و کامرس، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر اور ہنرمندی و چھوٹے کاروبار کی ترقی کے صوبائی وزرا شامل ہیں، جبکہ متعدد متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز، چیئرمین پی ٹی آئی بی اور ڈی آئی جی پولیس بھی ارکان کا حصہ ہوں گے۔ کمیٹی صوبے میں مختلف شعبوں کی میپنگ کرکے ان سیکٹرز کی نشاندہی کرے گی جہاں بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے، اور صنعتوں، بھٹوں، زراعت، ماہی گیری، ورکشاپس اور آٹو رِیپئیر جیسے شعبوں سے خصوصی ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ اے آئی اور جی آئی ایس سے منسلک مرکزی ڈیٹا بینک بھی قائم کیا جائے گا تاکہ نمایاں متاثرہ اضلاع اور علاقوں کا تعین کرکے ان کے لیے حکمت عملی وضع کی جاسکے۔ کمیٹی فوری، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر جبری مشقت کے خاتمے کے اقدامات اور ان پر عملدرآمد کا طریقہ کار تیار کرے گی، جبکہ والدین، اساتذہ اور معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کے منصوبے بھی اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ پنجاب بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ایسے جامع اقدامات کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس سے عالمی سطح پر صوبے کی رینکنگ میں بہتری کی توقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جبری مشقت کے خاتمے کے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف