مریم نواز شریف نے بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کیلیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دے دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
لاہور:
وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب سے بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دے دی جس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق پندرہ رکنی سٹیرنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو مقرر کیاگیا، سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا سٹیرنگ کمیٹی کے شریک چیئرمین ہوں گے۔
اسکول ایجوکیشن، سرمایہ کاری و کامرس، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر و بیت المال اور ہنرمندی و چھوٹے کاروبار کی ترقی کے صوبائی وزرا کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ داخلہ، محنت و افرادی، اسکول ایجوکیشن، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر، سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اینٹرپرینیور کی وزارتوں کے صوبائی سیکریٹری، چیئرمین پی ٹی آئی بی اور ڈی آئی جی پولیس بھی کمیٹی کے ارکان ہوں گے ۔
کمیٹی تمام شعبوں کی میپنگ کرے گی، جبری مشقت لینے والے شعبوں کا تعین کرے گی ۔صنعتوں، بھٹوں، زراعت، ماہی گیری، ورکشاپس اور آٹو ری پئیر کے شعبوں کا خاص طور پر ڈیٹا جمع کیا جائے گا
اے آئی اور 'جی-آئی-ایس' سے منسلک صوبائی سطح پر مرکزی ڈیٹا بینک بنایا جائے گا، کمیٹی بچوں سے جبری مشقت کے حوالے سے نمایاں اضلاع، شعبوں اور علاقوں کا بھی تعین کرے گی، جبری مشقت کے شکار بچوں کے لیے متبادل طریقے بھی وضع کرے گی۔
کمیٹی فوری، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کی حکمت عملی تیار کرکے اپنی تجاویز کے ساتھ ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی بھی تیار کرے گی۔ جبکہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس معاملے میں آگاہ کرنے کی حکمت عملی اور اداروں کی اس ضمن میں کارکردگی جانچنے کے معیار کی تیاری بھی کمیٹی کے فرائض میں شامل ہے۔
صوبہ پنجاب بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اس نوعیت کے جامع اقدامات کرنے والا پہلا صوبہ ہے، بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی عالمی سطح پر رینکنگ بھی بہتر ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بچوں سے جبری مشقت کے جبری مشقت کے خاتمے سٹیرنگ کمیٹی کمیٹی کے کرے گی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔