پنجاب میں بلدیاتی نمائندوں کے انتخاب کے نئے طریقہ کار پر اعتراضات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے پہلے حکومت کی جانب سے کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور اقلیتی نمائندوں کے انتخاب کا نیا طریقہ کار ملک میں جمہوری اصولوں اور آئینی اختیارات پر ایک تازہ بحث کو جنم دے رہا ہے۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت تجویز کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر نمائندے عوامی ووٹ کے بجائے بلدیاتی کونسلوں کے اندر سلیکشن کے ذریعے چُنے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل انتخابی عمل کو زیادہ سادہ، کم خرچ اور مؤثر بنائے گا، تاہم سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو جمہوری روایات سے انحراف قرار دیا ہے۔
حکومت کے مطابق نیا طریقہ کار اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسانوں، خواتین اور اقلیتی برادریوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی مل سکے۔ وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار انتخابی دباؤ سے پاک اور شفاف نظام فراہم کرے گا، جس میں مخصوص طبقات اپنے حقیقی نمائندے خود چُن سکیں گے۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس سے عوام کے بنیادی ووٹ کا حق متاثر ہوگا کیونکہ عام ووٹر کے بجائے چند منتخب افراد مخصوص نشستوں کا فیصلہ کریں گے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس ترمیم کو ’’جمہوریت کی بنیادوں پر وار‘‘ قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف نے 4 نومبر 2025 کو ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نئے ایکٹ کی کئی شقیں آئین کے آرٹیکلز 17، 32 اور 140-اے کے خلاف ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما اعجاز شفیع کے مطابق یہ نظام ووٹر کا بنیادی حق سلب کرتا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے بھی ایک علیحدہ پٹیشن دائر کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طریقہ کار
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔