Juraat:
2026-07-24@03:20:34 GMT

مودی کا کرپٹ دور حکومت

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

مودی کا کرپٹ دور حکومت

ریاض احمدچودھری

کرپٹ اور رشوت خور مودی کے دور میں بھارت میں کرپشن کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے۔ سفاک مودی اور اڈانی، امبانی گٹھ جوڑ نے بھارت کے عوام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ مالی کرپشن، ادارہ جاتی تباہی، بدعنوانی، مذہبی تقسیم، سیاسی انتقام، بلڈوزر کلچر اور نفرت بھارت کی پہچان بن چکی ہے۔مودی کے دور حکومت میں کرپشن مسلسل بڑھ رہی ہے اور کوئی اس کا پوچھنے والا نہیں۔ نفرت، تقسیم، مذہبی تعصب اور سماجی کرپشن حکومتی سرپرستی میں عام ہو چکی ہے۔ بھارت میں معاشی، سماجی، مذہبی، عدالتی، انتخابی، ادارہ جاتی اور ماحولیات تک ہر شعبہ کرپشن کی لپیٹ میں ہے۔ جریدے میں یہ بھی کہا گیا کہ روسی تیل کی خریداری سے فائدہ عوام کو نہیں بلکہ امبانی اور اڈانی جیسے بڑے سرمایہ داروں کو ہوا ہے۔ مزید براں ہنڈن برگ رپورٹ میں کہا گیا اڈانی گروپ پر بڑے فراڈ اور دھوکہ دہی کے باوجود SEBI نے انہیں بچایا۔ دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ میں بھی انکشاف ہوا کہ بھارتی وزارت خزانہ نے ایل آئی سی کو تقریباً 4 ارب ڈالر اڈانی گروپ میں لگانے پر مجبور کیا۔
بھارتی میڈیا مکمل طور پر سرکار کے زیر اثر ہے۔ بھارتی سرکاری ادارے ، قومی اثاثے اور زمینیں اونے پونے نجی گروپوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ امبانی اور اڈانی کی دولت 2014 کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے جبکہ بھارت کا ہنگر انڈیکس 55 سے گر کر 102 ہو گیا ہے۔ امیری اور غریبی کا فرق انتہائی بڑھ گیا ہے۔ اوپر کے 10 فیصد لوگ ملک کی 80 فیصد دولت پر قابض ہیں۔نریندر مودی کے 11 سالہ دورِ اقتدار میں کرپشن اور کالے دھن کے الزامات بھارت پر ایک بار پھر عالمی سطح پر سوالیہ نشان بن کر ابھرے ہیں۔ سوئس بینکوں میں بھارتی خفیہ رقوم میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے، جس نے مودی حکومت کی شفافیت اور احتساب کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔اکنامک ٹائمز اور سوئس بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں بھارتی رقوم تین گنا بڑھ کر 37,600 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی نان بینک کلائنٹس کی رقم 6 فیصد بڑھ کر 650 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
بھارتی سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور بااثر کاروباری شخصیات نے گزشتہ دہائی میں سوئس بینکوں کا سہارا لیتے ہوئے بیرون ملک کالا دھن چھپایا۔ 2جی اسکینڈل، کوئلہ مافیا اور دیگر بدنام زمانہ کیسز اس بات کے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ کالا دھن سوئٹزرلینڈ منتقل ہوتا رہا ہے۔سوئس حکام کا کہنا ہے کہ وہ 2019 سے بھارت کو ہر سال مشکوک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کر رہے ہیں اور سینکڑوں کیسز میں ڈیٹا بھارت کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود کالے دھن میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارت کے ترقیاتی فنڈز کو چوری کرنے کے مترادف ہے۔ بیرونی بینکوں میں چھپی ہوئی دولت مودی سرکار کے کرپشن کے خلاف دعووں کو جھٹلا رہی ہے اور ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اکنامک ٹائمز کا کہنا تھا کہ بینکوں میں بھارتی رقم کا بڑا حصہ بینکوں اور اداروں کے ذریعے رکھا گیا ہے تاہم سوئٹزرلینڈ 2019 سے بھارت کو مشکوک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کر رہا ہے۔ سوئس حکام کے مطابق سینکڑوں کیسز میں بھارت کو مشکوک اکاؤنٹس کی تفصیلات دی جا چکی ہیں،غیر ملکی کلائنٹس کی رقوم میں کمی آئی مگر بھارتی پیسہ غیر معمولی حد تک بڑھا۔
پاناما پیپرز میں بھارتیوں کی کرپشن کی ان گنت کہانیاں بھی سامنے آ گئی ہیں، ٹیکس چرانے کے لیے بھارتیوں نے بھی اربوں کے بے نامی اثاثے بنائے اور چھپائے۔بھارتی ٹیکس اتھارٹیز 200 ارب روپے کے بے نامی اثاثہ جات تک پہنچ گئیں، 2016 سے اب تک سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز نے تحقیقات کر کے بھارت اور بیرون ملک اربوں کے بے نامی اثاثہ جات کا پتا لگایا۔بھارت میں بلیک منی اور انکم ٹیکس ایکٹ پر 46 مقدمے دائر کیے جا چکے ہیں، بھارتی ٹیکس اتھارٹیز نے ان مقدمات میں 142 کروڑ کی ریکوری کر لی ہے، جب کہ مزید 83 کیسز میں سرچ اور سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مزید کیسز کے مقدمات دائر ہونے پر مزید کروڑوں روپے کی ریکوری کا امکان ہے۔آئی سی آئی جے نے اندازہ لگایا ہے کہ مجموعی طور پر دنیا بھر میں ٹیکس حکام نے ٹیکسوں اور جرمانوں کی مد میں 1.

36 بلین ڈالرز سے زیادہ کی ریکوری کی ہے، جب کہ سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کے اعداد و شمار برطانیہ، جرمنی، اسپین، فرانس اور آسٹریا کے تھے۔2016 میں اپریل میں بحر اوقیانوس کے کنارے پر واقع ملک پاناما کی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے نے ایک قانونی فرم موزاک فونسیکا سے غیر قانونی اثاثہ جات کی ڈیڑھ لاکھ دستاویزات لے کر پامانہ پیپرز کے نام سے شائع کی تھیں، جس کے باعث کئی ممالک کی حکومتیں ہل گئی تھیں۔ بی جی پی حکومت نے سپریم کورٹ کو بھارتی شہریوں کے بیرون ملک موجود کالے دھن کی تفصیلات بتانے سے معذرت کر لی ہے ، مودی حکومت کے سپریم کورٹ کو جواب پر اپوزیشن کانگریس نے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی قوم سے معافی مانگیں۔
سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ قبل حکم جاری کیا تھا کہ بھارتی شہریوں کے بیرون ملک موجود کالے دھن کی تفصیل عوام کے سامنے لائی جائے، جس کے بعد مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں کہا کہ جن ممالک کیساتھ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے ہیں ، وہاں موجود بھارتیوں کے کالے دھن سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں۔مودی سرکار کے اس جواب کو اپوزیشن پارٹی کانگریس نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔کانگریس کے ترجمان ابھیش سنگھوی نے کہا کہ عدالت میں دیے گئے حکومتی موقف پر وزیر اعظم نریندر مودی قوم سے معافی مانگیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ بر سراقتدار آکر وہ کالادھن واپس لے کر آئے گی۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کی تفصیلات میں بھارتی سپریم کورٹ بیرون ملک میں بھارت کالے دھن کا کہنا گیا ہے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف