سیکیورٹی فورسز کی ڈیرہ بگٹی میں کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو ڈیرہ بگٹی میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔
مزید پڑھیں: گزشتہ مہینے ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں کتنی اموات ہوئیں؟ رپورٹ جاری
سیکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے کارروائی کی، اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ دہشتگرد علاقے میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔
مزید پڑھیں: بنوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے اسسٹنٹ کمشنر کون تھے؟
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے وژن ’استحکام پاکستان‘ کے تحت انسداد دہشتگردی کی مہم جاری رکھی جائےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر دہشتگرد ہلاک ڈیرہ بگٹی سیکیورٹی فورسز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر دہشتگرد ہلاک ڈیرہ بگٹی سیکیورٹی فورسز وی نیوز سیکیورٹی فورسز ڈیرہ بگٹی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔