خاتون سینیٹری ورکر نے 9 لاکھ روپے اصل مالک تک پہنچا کر ایمانداری کی مثال قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب حکومت کے ’ستھرا پنجاب‘ منصوبے میں شامل خاتون سینیٹری ورکر نے کوڑا دان سے ملنے والے 9 لاکھ روپے مالک کو واپس کر کے ایمانداری کی مثال قائم کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نصرت بی بی صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی کا کام کرنے والے ایک لاکھ 30 ہزار ملازمین میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح محلہ نگہبان پورہ کی گلی میں کوڑے سے ایک پیکٹ ملا، جسے کھولنے پر نوٹوں کی گڈیاں سامنے آئیں۔
خاتون نے فوراً اپنے سپروائزر کو اطلاع دی، جنہوں نے پیسے کے مالک کو تلاش کرکے رقم واپس کردی۔
اس کارکردگی پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے بتایا کہ نصرت بی بی کو مجموعی طور پر 3 لاکھ روپے انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے ایک بیٹے کو ضلعی انتظامیہ میں نوکری بھی دی جا رہی ہے۔
5 بچوں کی ماں نصرت بی بی کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر نے محنت کرکے بچوں کو پالا ہے اور ہمیشہ رزق حلال کھایا ہے۔
انہوں نے افسران کی جانب سے حوصلہ افزائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرے لیے یہ سب سے بڑا اعزاز ہے کہ مجھ جیسی غریب کو اتنی عزت دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی جریدے فوربز نے حال ہی میں ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کو دنیا کا سب سے بڑا منظم ویسٹ منیجمنٹ سسٹم قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس نظام کے تحت روزانہ قریباً 50 ہزار ٹن کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایمانداری کی مثال خاتون سینیٹری ورکر رقم اصل مالک تک پہنچا دی نصرت بی بی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمانداری کی مثال خاتون سینیٹری ورکر وی نیوز
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔