پنجاب حکومت کے ’ستھرا پنجاب‘ منصوبے میں شامل خاتون سینیٹری ورکر نے کوڑا دان سے ملنے والے 9 لاکھ روپے مالک کو واپس کر کے ایمانداری کی مثال قائم کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نصرت بی بی صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی کا کام کرنے والے ایک لاکھ 30 ہزار ملازمین میں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح محلہ نگہبان پورہ کی گلی میں کوڑے سے ایک پیکٹ ملا، جسے کھولنے پر نوٹوں کی گڈیاں سامنے آئیں۔

خاتون نے فوراً اپنے سپروائزر کو اطلاع دی، جنہوں نے پیسے کے مالک کو تلاش کرکے رقم واپس کردی۔

اس کارکردگی پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے بتایا کہ نصرت بی بی کو مجموعی طور پر 3 لاکھ روپے انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے ایک بیٹے کو ضلعی انتظامیہ میں نوکری بھی دی جا رہی ہے۔

5 بچوں کی ماں نصرت بی بی کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر نے محنت کرکے بچوں کو پالا ہے اور ہمیشہ رزق حلال کھایا ہے۔

انہوں نے افسران کی جانب سے حوصلہ افزائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرے لیے یہ سب سے بڑا اعزاز ہے کہ مجھ جیسی غریب کو اتنی عزت دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی جریدے فوربز نے حال ہی میں ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کو دنیا کا سب سے بڑا منظم ویسٹ منیجمنٹ سسٹم قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس نظام کے تحت روزانہ قریباً 50 ہزار ٹن کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایمانداری کی مثال خاتون سینیٹری ورکر رقم اصل مالک تک پہنچا دی نصرت بی بی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمانداری کی مثال خاتون سینیٹری ورکر وی نیوز

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا