مردان: ساڑھے 4 کروڑ روپے یومیہ کی غیر قانونی سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر ایف بی آر کا چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان لینڈ ریونیو کی مختلف غیر قانونی سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
مردان میں غیر قانونی سگریٹ کے 200 سے زیادہ کارٹن برآمد کرکے مختلف فیکٹریوں کو سیل کیا گیا ہے۔ غیر ڈیوٹی شدہ سگریٹ سے قومی خزانے کو سالانہ 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق مردان میں ایک فیکٹری پر چھاپا مارا جہاں خفیہ اور غیر قانونی مشینری سے غیر قانونی سگریٹ سازی کے لیے تمباکو تیار کیا جا رہا تھا، یہ کمپنی معروف سگریٹ برانڈز بناتی ہے، جس میں مشینری کی یومیہ استعداد 6 سے 7 ہزار کلوگرام تک تھی۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی مالیت ساڑھے 4 کروڑ روپے یومیہ بنتی تھی، فیکٹری کے پاس پہلے سے منظور شدہ مشینری بھی موجود تھی۔ خفیہ مشینری کا مقصد غیر قانونی سگریٹ کی مینوفیکچرنگ تھا۔
تمباکو آزاد کشمیر اور حیدرآباد کے یونٹس کو بھیجا جاتا تھا۔
اس سے قبل ایف بی آر ان لینڈ ریونیو نے مردان ہی میں غیر قانونی سگریٹ کے 200 سے زیادہ کارٹن برآمد کرکے مختلف فیکٹریوں کو سیل کیا تھا۔
غیر ڈیوٹی شدہ سگریٹ سےقومی خزانے کو سالانہ 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ٹیکس چوری پر فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: غیر قانونی سگریٹ ایف بی آر
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔