نئی تحقیق: فضائی آلودگی دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور امراضِ قلب کے خطرے کو بڑھاتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ایک تازہ طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور سختی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شکاگو میں ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طویل عرصے تک فضائی آلودگی کے زیرِ اثر رہنے والے افراد میں شریانوں کی سختی اور پلاک جمع ہونے کے باعث دل کی سنگین بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر فلپ کاسٹیلو اراوینا نے کہا کہ فضائی آلودگی کی سطح، چاہے سرکاری معیارات کے قریب یا اس سے کم ہی کیوں نہ ہو، شریانوں میں پلاک اور سختی کے ابتدائی آثار سے منسلک پائی گئی۔
اس مطالعے کے لیے ٹورنٹو کے تین اسپتالوں میں زیرِ علاج 11 ہزار سے زائد بالغ افراد کی دل کی صحت اور فضائی آلودگی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے سی ٹی اسکین کے ذریعے شریانوں کا تجزیہ کیا اور فضائی آلودگی کی سطح کا اندازہ مریضوں کے ہوم پوسٹل کوڈز اور ماحولیاتی ڈیٹا سے لگایا۔
نتائج میں سامنے آیا کہ ہر 1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافی فضائی آلودگی کے ساتھ دل کی شریانوں میں کیلشیئم کی مقدار میں 11 فیصد اضافہ، پلاک کے بننے کے امکانات میں 13 فیصد اضافہ اور دل کی بیماری کے خطرے میں 23 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسی دیگر آلودہ گیسوں کا اثر بھی منفی رہا، اگرچہ کم شدت کا۔
تحقیق میں مردوں اور خواتین میں فرق بھی سامنے آیا۔ خواتین میں باریک ذرات کی وجہ سے شریانوں میں زیادہ تنگی اور کیلشیئم کی زیادتی دیکھی گئی، جبکہ مرد بھی زیادہ آلودگی کی صورت میں کیلشیئم اور پلاک کے بڑھنے کا شکار پائے گئے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی کارڈیک ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر کیٹ ہینی مین نے کہا کہ دل کی بیماری دنیا بھر میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ فضائی آلودگی ایک قابلِ کنٹرول عامل ہے، جسے کم کر کے دل کی بیماری کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین نے مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ فضائی آلودگی دل اور خون کی نالیوں کو کس طرح نقصان پہنچاتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون معلوماتی مقصد کے لیے ہے، صحت کے مسائل میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ فضائی ا لودگی شریانوں میں
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔