بھارت: نریندر مودی نے روسی شہریوں کے لیے مفت ویزے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روس کے شہریوں کیلئے 30 روزہ مفت ای ٹورسٹ ویزے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یہ اعلان نئی دہلی میں منعقدہ بھارت روس سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران کیا گیا، اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی موجود تھے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں مودی کا کہنا تھا کہ جلد ہی روسی شہریوں کیلئے 30 روزہ مفت ای ٹورسٹ ویزا اور 30 روزہ گروپ ٹورسٹ ویزا متعارف کروایا جائے گا۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ بھارتی دورے پر آئے روسی صدر پیوٹن کی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا گیا، بھارت نے روس سے مزید ایس 400 میزائل سسٹم حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
بھارت اپنے روسی ساختہ ایس یو 30 جنگی جہاز بھی اپ گریڈ کرنا چاہتا ہے، بھارت اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 68 ارب ڈالر ہے اور بھارت 2030ء تک اسے بڑھا کر 100 ارب ڈالر کرنا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔