Express News:
2026-06-02@23:05:59 GMT

ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ کرپشن

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

پچھلے دنوں ایک وفاقی وزیر کا بیان نظر سے گزرا کہ جس میں آپ نے فرمایا کہ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کرتا کون ہے؟ اگر حکومت کو پتہ ہے کہ کرپشن ہی پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے تو اس کو روکنا کس کی ذمے داری ہے؟ اور اب تک اس پر حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟ اور اس طرح کے دیگر سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔

اب اگر عوام ان سوالات کے جوابات دے گی تو حکومت کو شکایت ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ معاملات فوجداری یا تکنیکی بھی ہوجائے۔ فوجداری ہونے کی صورت میں سزا کا خوف ہے اور تکنیکی ہونے کی صورت میں سوفٹ ویئر اپڈیٹ کا خطرہ ہے۔

ہم دونوں کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ ہمارا شمار عوام میں ہوتا ہے کہ جس سے ہر ساہوکار، سرمایہ دار اور سامراج کمانا چاہتا ہے۔ عوام سے روپیہ بٹورنے پر سب متفق ہیں تاہم کمائی کے حصوں پر کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوجاتا ہے۔ ایک گجراتی کہاوت ہے کہ ''جینوں راجہ ویپاری اونی پرجا بھکاری'' یعنی جہاں کا راجہ یا حکومت عوام سے کاروبار کرے گی تو وہاں کے عوام بھکاری بن جائیں گے جو ہمارے یہاں ہورہا ہے اور ہم اس کو ہوتے ہوئے دیکھ بھی رہے ہیں۔

اس ملک میں کرپشن ایک پوری سائنس ہے بلکہ پولیٹیکل سائنس ہے کیونکہ کرپشن اور پولیٹکس یعنی سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور کسی ایک یا دونوں کے اترنے سے سب کچھ بے نقاب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اس لیے تمام فریقین اس کو قائم و دائم رکھنے پر ''اتفاق'' رکھتے ہیں اور اس اتحاد میں کسی سیٹھ، ملک، چوہدری، خان، میاں اور حتی کے حاجی صاحب میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔

ہمارے ملک میں کرپشن ایک پیشہ بلکہ فن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جیسے ہی کوئی شخص کسی کلیدی عہدے پر پہنچتا ہے جہاں اوپر کی کمائی کے مواقع ہوں تو سب سے پہلے تو اس کے ڈھیر سارے سامنے کے آدمی (یہ فرنٹ مین کی اردو ہے کیونکہ دلال لکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے) اوپر، نیچے، دائیں، بائیں غرضیکہ ہر طرف سے آتے ہیں کہ وہ سودا کروا سکے اور یہ سب عوام میں سے ہوتے ہیں اور عام طور پر شور وہ مچاتے ہیں جنھیں اس میں شامل ہونے کا یا بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے یا اشنان کرنے کا موقعہ نہیں ملتا۔ سودوں کو مزید کاروباری رنگ دینے کے لیے بڑے بڑے بزنس اسکول سے پڑھے ہوئے کاروباری منیجر آتے ہیں تاکہ اس پوری کاروائی کو کاروباری رنگ دیا جاسکے اور وہ بھی اتنا چوکھا کہ کسی طرح اترنے نہ پائے۔

اس کے بعد اکاؤنٹنٹ آتے ہیں تاکہ اس تمام کاروباری کارروائی کو قانونی شکل دی جاسکے اور حساب کے کھاتوں میں اندراج کیا جاسکے، عام طور یہ اندراج اس طرح کیا جاتا ہے کہ یہ ٹیکس سے محفوظ یا مستثنٰی رہے، اس کے باوجود کوئی مسئلہ ہونے کی صورت میں قانونی معاونت عندالطلب رہتی ہے۔ اس کے بعد سیاستدان بجا طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی اور اگر کرپشن ثابت ہوجائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب اتنے سارے ''پیشہ ور'' لوگوں نے اس پر محنت کی ہو تو کرپشن کیسے پکڑی جاسکتی ہے؟ اور جب پکڑی ہی نہیں جائے گی تو ثابت کیسے ہوگی؟ ان تمام سودوں میں عوام ہی بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک کاروبار ہوتے ہیں اور آخر میں شریک ستم بھی عوام ہی ہوتے ہیں۔

ہم اس حقیقت کو مانیں یا نہ مانیں کرپشن  ہمارے ملک کی جڑوں میں شامل ہوکر اس سے وابستہ لوگوں کا جز بدن بن چکی ہے اور ان تمام لوگوں نے اس کو قبول کرکے نظام کا حصہ مان لیا ہے۔ اس لیے اب یہ جو بھی ہے ہمارے نظام کا حصہ ہے اور اس سے چھٹکارا نظام کی تبدیلی کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔

مجھے امید ہے کہ آیندہ جو بھی حکومتی اہلکار کرپشن کے حوالے سے بیان دے گا تو مکمل بیان دے گا تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔ ابھی تو ہم نے آئی ایم ایف کی رپورٹ پر بات نہیں کی کیونکہ وہ رپورٹ اوپر تک جاتی ہے۔ اگر آئی ایم ایف نے کرپشن کے خاتمے پر زیادہ زور دیا تو ہوسکتا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کو ہی چھوڑ دے۔ ویسے مجھے آئی ایم ایف سے اس کے سوا چھٹکارے کی کوئی اور صورت نظر نہیں آتی کیونکہ ہمارا تو یہی حال ہے کہ ''نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن'' بس اس تھوڑے لکھے کو بہت جانئے اور جو اردو میں نہ کہہ سکے اس کو فارسی میں لکھ دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی صورت ہے اور

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان