’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ کہنے والوں کو ملک کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کی داستانیں سنائیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی خاطر دی جانے والی قربانیوں اور جدوجہد کی داستانیں ان لوگوں کو بھی سنائی جانی چاہئیں جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ’خان نہیں تو پاکستان نہیں۔‘
مزید پڑھیں: کیا جیل میں سیاسی ملاقاتوں پر پابندی صرف عمران خان پر ہے؟
اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ اس ملک کے قیام کے لیے قوم نے آگ اور خون کا دریا پار کیا، لاکھوں افراد شہید ہوئے، بے شمار خواتین کی عصمتیں لٹیں اور متعدد لوگ دشمن کے ہاتھوں اغوا ہوئے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر حقیقت جاننی ہے تو سیالکوٹ آکر اُن مہاجرین کی قربانیوں کا حال سنیں جنہوں نے جموں و کشمیر سے ہجرت کی۔
انہوں نے کہاکہ صحافی حامد میر کے نانا نے جموں و کشمیر سے ہجرت کی کیا قیمت ادا کی، یہ صحافی سے خود پوچھ لیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہاکہ سیالکوٹ کی گلیوں، محلوں اور دریائے چناب کے کنارے بسنے والے مہاجرین سے پوچھیں کہ انہوں نے کس طرح نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہجرت کی اور خون سے لکیر کھینچ کر اس پاک سرزمین پر پہلا سجدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نہیں تو ہم نہیں‘ یہ وہ نعرہ ہے جو آج دہشت گردی اور بھارت کے خلاف جنگ میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کے دلوں کی آواز بن چکا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا ’پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو چارج شیٹ کیا اور کہاکہ یہ شخص ذہنی مریض ہے۔
مزید پڑھیں: سپہ سالار پر فضول گوئی عمران خان کے ذہنی مفلوج ہونے کا ثبوت ہے، عظمیٰ بخاری
پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ قابل افسوس ہیں، ہمیں آگے بڑھنے کے لیے ایک دوسرے کو اسپیس دینا ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان پی ٹی آئی خواجہ آصف عمران خان وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پی ٹی ا ئی خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز انہوں نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔