کیا حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا؟ طلال چوہدری نے واضح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق جو بات کی ہے حکومت اس پر غور کرےگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فوجی ترجمان نے وہی بات کی جو پورا پاکستان سوچ رہا ہے، بحیثیت ادارہ فوج نے بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں، ایک شخص اپنی ذات کا قیدی، اس کی شعبدہ بازی اور سیاست ختم ہوگئی، ڈی جی آئی ایس پی آر
طلال چوہدری نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اگر سیاست کرنی ہے تو ایم کیو ایم کی طرح عمران خان سے خود کو الگ کرے، کیوں کہ اس شخص نے ہر ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان بھی وہی کررہے ہیں جو الطاف حسین کرتے تھے، اور وقت آنے پر ایم کیو ایم نے خود کو بانی سے الگ کرلیا تھا۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہاکہ دہشتگردوں نے پی ٹی آئی کو چھوڑ کر تمام جماعتوں پر حملہ کیا، آخر ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی تو رشتہ ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے آج تک اسرائیل کے خلاف کوئی بات نہیں کی، 20 سے 25 سال پہلے بہت سے لوگوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ یہ پلانٹڈ شخص ہے۔
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف چوہدری نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو واضح کیا ہے کہ عمران خان کی سیاست اب ختم ہو چکی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو درپیش بیشتر خطرات کا محور ایک ایسا شخص ہے جو اپنی ذات کا قیدی بن چکا ہے۔ یہ فرد اپنی خواہشات اور مفادات کو ریاستِ پاکستان سے بالاتر سمجھتا ہے، اور اس کا یہ طرزِ فکر ملک کی قومی سلامتی کے لیے واضح خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ فوج کے پاس اب 9 مئی کا کوئی کیس نہیں، تمام سول کورٹس کو مکمل ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’اب ایک انچ بھی کوئی چیز برداشت نہیں کی جائےگی‘، فیصل واوڈا کا فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کا خیرمقدم
خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ حکومت کرےگی، فوج کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پابندی پر غور پی ٹی آئی ڈی جی آئی ایس پی آر طلال چوہدری عمران خان فوجی ترجمان وزیر مملکت داخلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی پر غور پی ٹی ا ئی ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر طلال چوہدری فوجی ترجمان وزیر مملکت داخلہ وی نیوز انہوں نے کہاکہ طلال چوہدری پی ٹی ا ئی چوہدری نے ئی ایس پی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔