data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی: بھارت کی سب سے بڑی نجی ایئرلائن انڈیگو کے فضائی آپریشن میں غیر معمولی خلل جاری ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران 500 سے زائد پروازوں کی اچانک منسوخی نے پورے فضائی نظام کو مفلوج کر دیا ہے، دہلی اور چنئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹس شدید ترین دباؤ کا شکار رہے جہاں راتوں رات پروازیں روک دیے جانے سے ہزاروں مسافر رل گئے اور ایئرپورٹس پر شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔

عالمی میڈیا رپورٹس  کے مطابق دہلی سے فلائٹس بغیر کوئی وجہ بتائے آدھی رات کو منسوخ کی گئیں، جس سے نہ صرف فضائی آپریشن متاثر ہوا بلکہ مسافروں کا احتجاج بھی شدت اختیار کر گیا،  مسافروں نے شکایت کی کہ ایئرپورٹ پر کوئی واضح رہنمائی موجود نہیں تھی اور انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کھڑی نظر آئی۔

یہ مسئلہ مسلسل تیسرے روز اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایک اور پرواز میں بم کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے بعد پہلے سے متاثر شیڈول مزید بگڑ گیا،  اگرچہ بعد میں کسی بھی اطلاع کو جھوٹا ثابت کیا گیا، گھبراہٹ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مزید پروازیں معطل ہوئیں۔

انڈیگو نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ بحران جلد ختم نہیں ہوگا اور پروازوں کی مکمل بحالی 10 فروری 2026 سے پہلے ممکن نہیں۔ ایئرلائن نے وضاحت کی کہ موجودہ بدانتظامی بنیادی طور پر فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لیول-2 (FDTL-II) کے نفاذ کے دوران ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ یہ قوانین پائلٹس اور عملے کے آرام، ڈیوٹی اوقات اور زیادہ سے زیادہ پرواز کے اوقات کار سے متعلق ہیں، جن پر مناسب تیاری نہ ہونے کے باعث عملدرآمد میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

ایئرلائن کے مطابق پائلٹس کی کمی، عملے کی عدم دستیابی، شیڈولنگ کا بکھراؤ اور مجموعی طور پر انتظامی کمزوریوں نے بحران کو سنگین بنا دیا ہے۔ انڈیگو نے حکومت سے FDTL قوانین میں عارضی نرمی دینے کی درخواست بھی کر دی ہے تاکہ نظام کو دوبارہ متوازن کیا جا سکے۔

مسافروں کی شکایات میں اضافے کے بعد انڈیگو نے معذرت کرتے ہوئے 5 سے 15 دسمبر تک بک ہونے والے ٹکٹس کے لیے مکمل فیس معافی، منسوخی اور ری شیڈولنگ کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے ایئرپورٹ پر پھنسے افراد کے لیے ہوٹل، ٹرانسپورٹ، کھانے اور خصوصی افراد کے لیے لاؤنج سہولت بھی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بین الاقوامی پروازیں بھی متاثر ہوئیں، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک جانے والے مسافروں کو طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بڑی فلائٹس مکمل طور پر منسوخ نہیں کی گئیں،  دبئی، ابوظبی، دوحہ اور شارجہ جانے والی پروازیں غیر معمولی تاخیر سے چلائی گئیں جس سے ہزاروں افراد کی سفری منصوبہ بندی متاثر ہوئی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف