پنجاب بھر میں ون ڈش اور مقررہ اوقات کار کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف شہروں میں چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 14 شادی ہالز اور فارم ہاؤسز کو سیل کر دیا گیا جبکہ 9 افراد کو موقع سے گرفتار بھی کیا گیا۔ کئی وینیوز پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر یہ کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تاکہ شادیوں اور تقریبات میں ون ڈش پالیسی، مقررہ اوقات اور ساؤنڈ سسٹم کے استعمال سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کرایا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد فارم ہاؤسز اور کھلے گراؤنڈز کو بھی شادی ہالز کی طرح مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ متحرک ہوئی اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تین روز میں 562 سے زائد مقامات کی انسپکشن مکمل کی گئی۔ اس دوران کئی جگہوں پر سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں 14 وینیوز سیل کیے گئے اور متعدد مقامات پر جرمانے بھی عائد ہوئے۔ نشتر ٹاؤن میں ایک ہال کو 1 لاکھ 50 ہزار روپے کا جرمانہ کیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق صرف 5 دسمبر کو 267 انسپکشنز کی گئیں اور 6 ہالز کو قانون توڑنے پر سیل کیا گیا۔ ٹیموں نے واضح کیا کہ تمام شادی ہالز اور انتظامیہ کو حکومتی ایس او پیز پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا، ورنہ سخت کارروائی ہوگی۔
اسسٹنٹ کمشنرز مختلف تحصیلوں میں شادی ہالز، مارکیز اور فارم ہاؤسز کی روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کر رہے ہیں۔ تقریبات میں بلند آواز والے ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کی نگرانی بھی تیز کر دی گئی ہے جبکہ رات گئے تک جاری رہنے والی شادیوں پر نظر رکھنے کے لیے نائٹ اسکواڈز کو فیلڈ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ میرج ایکٹ پر ہر صورت عمل درآمد کرایا جائے، ون ڈش کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے، غیر ضروری شور یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو فوراً روکا جائے اور شادی ہالز مالکان کو ایس او پیز سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کی سہولت، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں کریک ڈاؤن مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فارم ہاو سز شادی ہالز کیا گیا

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری