پنجاب میں ون ڈش، اوقات پر پابندی کی خلاف ورزی پر کریک ڈا ئون، متعدد ہالز اور فارم ہا ئوسز سیل
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب میں ون ڈش، اوقات پر پابندی کی خلاف ورزی پر کریک ڈا ئون، متعدد ہالز اور فارم ہا ئوسز سیل WhatsAppFacebookTwitter 0 6 December, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )پنجاب میں ون ڈش اور اوقات کار پر پابندی کی خلاف ورزی پر کریک ڈان شروع کردیا گیا ہے اور مجموعی طور پر 14 شادی ہال اور فارم ہاسز سیل اور جرمانے عائد کیے گئے اور 9 افراد کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا۔ پنجاب میں وزیر اعلی مریم نواز کی ہدایت پر ون ڈش، اوقات اور لاڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال کے خلاف کریک ڈان کی ہدایت پر کارروائی کی گئی اور فارم ہاسز اور گرانڈز میں بھی شادی ہالز کی طرح قوانین کے اطلاق کا فیصلہ کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسی رضا کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ متحرک ہوئی اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنی تحصیلوں میں فیلڈ وزٹس کا حکم دے دیا اور تین روز کے دوران مجموعی طور پر 562 مقامات کی انسپکشن مکمل کی گئی۔ رکارروائیوں کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 14 شادی ہال اور فارم ہاسز سیل کردیے گئے، ون ڈش اور اوقات کار کی سنگین خلاف ورزی پر 9 افراد موقع سے گرفتار کیے گئے، نشتر ٹان میں قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
انتظامیہ کی جانب سے صرف 5 دسمبر کو سب سے زیادہ 267 انسپکشنز اور 6 وینیوز سیل کیے گئے، شادی ہالز انتظامیہ کو حکومتی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کا پابند کیا گیا۔اسی طرح اسسٹنٹ کمشنرز کی شادی ہالز، مارکیز اور فارم ہاسز میں ضابطہ اخلاق کی چیکنگ، تقریبات میں غیر قانونی سانڈ سسٹم کے استعمال کی نگرانی کی جا رہی ہے، رات گئے تک جاری رہنے والی تقریبات کی مانیٹرنگ کے لیے نائٹ اسکواڈز فیلڈ میں موجود ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنی تحصیلوں میں میرج ایکٹ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ شادی ہالز اور فارم ہاسز میں ون ڈش کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیں، تقریبات میں بلند آواز سانڈ سسٹم کے استعمال کو فوری طور پر روکا جائے اورشادی ہالز مالکان کو حکومتی ایس او پیز کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 38کروڑ 10لاکھ ڈالرز فنانسنگ کی منظوری دیدی ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 38کروڑ 10لاکھ ڈالرز فنانسنگ کی منظوری دیدی ڈیرہ بگٹی، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 5 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد ہلاک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرزکا منافع بڑھانے کی سمری بھجوادی گئی، پیٹرول اورڈیزل مہنگا ہونیکاامکان انڈونیشیا کے صدر 2 روزہ دورے پر پیر کو پاکستان پہنچیں گے سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر جعفر ایکسپریس اور بولان میل منسوخ علامہ راغب نعیمی مزید 3 سال کیلئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مقررCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی پر اور فارم
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔