خیبر پختونخوا: پاک فوج کی دو علیحدہ کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا: پاک فوج کی دو علیحدہ کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 خوارج ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 6 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی دو علیحدہ کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 خوارج ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ٹانک ڈسٹرکٹ میں گزشتہ روز 5 دسمبر کو خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی انجام دی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات خوارج ہلاک ہو گئے۔
دوسری انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی لکی مروت ڈسٹرکٹ میں کی گئی جس میں مزید دو خوارج سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انجام کو پہنچ گئے۔
ہلاک شدہ بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جو سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیرنس آپریشن جاری ہیں۔
صدر مملکت، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا سکیورٹی فورسز کو کامیاب کارروائیوں پر خراج تحسین:
دریں اثنا صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹانک اور لکی مروت میں بھارتی پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے نو خوارج کے مارے جانے پر سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہا اور دہشت گردوں کے مکروہ عزائم ناکام بنانے پر فورسز کے حوصلے کی تعریف کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی خیبرپختونخوا میں کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی اور انکی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جرات اور پروفیشنل ازم پر فخر ہے، خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز پرعزم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر نے 100 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے بلوچستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر نے 100 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے ملک کا دفاع اہم، پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن تھا نہ ہوگا: بیرسٹر گوہر فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن ریڈ لائن کراس نہیں کی ، خواجہ آصف پنجاب میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی، 31 ہزار سے زائد افراد ڈی پورٹ پی ٹی آئی نے موقع گنوا دیا، عمران خان کے بغیر بات کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں ضرور کریں، عطا تارڑ اب ان کو جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں، مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، عطا اللہ تارڑCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز خوارج ہلاک فورسز کی کے خلاف
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔