شارجہ وارئرز ایم آئی کے خلاف واپسی کے لیے تیار،فتح کے لیے ہر حربہ آزمایا جائے گا،ہیڈ کوچ جے پی ڈومنی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
شارجہ وارئرز ایم آئی کے خلاف واپسی کے لیے تیار،فتح کے لیے ہر حربہ آزمایا جائے گا،ہیڈ کوچ جے پی ڈومنی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 December, 2025 سب نیوز
شارجہ :شارجہ وارئرز اپنی اگلی میچ میں ایم آئی ایمیریٹس کے خلاف زبردست واپسی کے لیے تیار ، پہلے میچ میں ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز کے خلاف ہار کے بعد ٹیم اگلے میچ میں اپنے ہوم گراؤنڈ شارجہ میں مضبوط کارکردگی دکھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہیڈ کوچ جے پی ڈومنی نے شارجہ کو ایک مضبوط قلعہ بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ٹیم اپنی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے اگلے میچ میں بہتری دکھانے کی کوشش کرے گی۔
جے پی ڈومنی نے کہا کہ ہم نے حالات کا جائزہ لے لیا ہے اور اب اپنی حکمت عملی بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
ہمارا مقصد شارجہ کو ایک مضبوط قلعہ بنانا ہے، مخالف ٹیموں کے خلاف بہترین کمبینیشنز اپنانا اور ٹیم کی طاقتوں کو سامنے لانا ہے۔جے پی ڈومنی کا کہنا تھا کہ میرا مقصد ہر کھلاڑی سے بہترین کارکردگی نکالنا ہے۔ میں پہلے ان کی شخصیت اور کھیلنے کے انداز کو سمجھتا ہوں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ کھیلیں۔ ٹیم میں آزادی کے ساتھ کھیلنا، مکمل محنت اور عزم کے ساتھ کھیلنا ہماری ترجیح ہے۔
شارجہ وارئرز اور ایم آئی ایمیریٹس کے درمیان تاریخی میچز کی بات کرتے ہوئے جے پی ڈومنی نے کہا کہ مداح فیلڈ میں بہتر کارکردگی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ ہم بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی حکمت عملی بہتر کریں گے تاکہ اگلے میچ میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔واضح رہے شارجہ وارئرز اور ایم آئی ایمرٹس کے درمیان کل (اتوار) کومدمقابل ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایل ٹی 20؛ڈیسرٹ وائپرز نے ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز کو دو وکٹوں سے شکست دےدی آئی ایل ٹی 20؛ڈیسرٹ وائپرز نے ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز کو دو وکٹوں سے شکست دےدی ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 سیزن 4 میں سات افریقی بولرز کی شمولیت آئی ایل ٹی 20 :ابوظہبی نائٹ رائیڈرز نے واریئرز کو شکست دے دی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں صائم ایوب نے دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرلی انٹرنیشنل لیگ ٹی20 : دبئی کیپیٹلز کے کپتان کا اگلے میچ کے لیے عزم ابوظہبی ٹی 10ٹورنامنٹ جیتنا بہت بڑا کارنامہ ہے،ٹم ڈیوڈCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نائٹ رائیڈرز شارجہ وارئرز ا ئی ایل ٹی 20 جے پی ڈومنی اگلے میچ ایم ا ئی کے خلاف میچ میں کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔