لاہور؍ اسلام آباد (نامہ نگار+نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی کا 58واں یوم تاسیس آج 30 نومبر بروز اتوار ملک بھر میں انتہائی جوش خروش سے منایا جائیگا اور جلسے و تقریب منعقد کی جائیں گی۔ کراچی کورنگی میں ہونے والے جلسے سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سہ پہر 4 بجے خطاب کریں گے۔ جسے پیپلز پارٹی کے تمام جلسوں میں ایس ایم ڈیز (سرفیس ماؤنٹ ڈیوائس) پر براہ راست دکھایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے کہا ہے کہ پارٹی کے زیر اہتمام تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ مقامات پر یوم تاسیس کے جلسوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لاہور میں پیپلز پارٹی لاہور کے زیر اہتمام بلاول پارک، ایچیسن سوسائٹی رائیونڈ روڈ میں منعقد جلسے کے مہمان خصوصی سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری اعتزاز احسن اور امتیاز صفدر وڑائچ ہوں گے۔ سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی وسطی پنجاب نیئر حسین بخاری، حسن مرتضیٰ اور عامر فدا پراچہ راولپنڈی، چودھری منظور، سرگودھا، ثمینہ گھرکی تلہ گنگ، رانا فاروق سعید اور عنایت علی شاہ فیصل آباد، شہزاد سعید چیمہ اوکاڑہ، غلام مرتضیٰ ستی اٹک، بیلم حسنین، غلام فرید کاٹھیا ساہیوال، ممبر سی ای سی چودھری اسلم گل قصور، ایم پی اے نیلم جبار ٹوبہ ٹیک سنگھ، سابق۔ایم پی اے عائشہ نواز چودھری خوشاب، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عثمان ملک ننکانہ، ثمینہ پگانوالہ جہلم، ندیم اصغر کائرہ، میاں اظہر حسن ڈار، آصف بشیر بھاگٹ گوجرانوالہ، چودھری اختر منڈی بہاؤالدین، احمد جواد رانا، چودھری اشرف حافظ آباد، ذوالفقار علی بدر سیالکوٹ، خواجہ اویس مشتاق نارروال، محسن ملہی بھکر، ارشد جٹ، شور کوٹ جھنگ، میاں مصباح الرحمن شیخوپورہ۔ جبکہ میاں ایوب پاکپتن میں پیپلز پارٹی جلسے کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ علاوہ ازیں صدرِ مملکت آصف علی زرداری  نے یومِ تاسیس پر پیغام میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہم اپنے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر  بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کے وژن، ہمت اور قربانیوں نے پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط کیا اور کئی نسلوں پر اثر انداز ہوئے۔ اپنی پوری تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے دور کے مرکزی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ جد و جہد کی۔ جب پاکستان پر آمریت کا سایہ تھا، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مزاحمت کرنے والی پارٹی کے طور پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی حقوق کی بحالی کی جد و جہد کی قیادت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی پی پی کا 58واں فائونڈیشن ڈے صرف ایک سیاسی جماعت کا یومِ تاسیس نہیں بلکہ جمہوریت، باوقار مساوات اور سماجی انصاف کی جد و جہد سے جنم لینے والی عوامی تحریک کا جشن ہے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عوام کو بااختیار بنانے کی تاریخی آواز سے لے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت کے لیے بے مثال جد و جہد تک، پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ مظلوموں کے حقوق کی ڈھال بنی رہی ہے۔ ہماری پارٹی کا سفر ہمارے شہداء کی قربانیوں سے رقم ہے اور ہمارے کارکنوں کی ثابت قدمی و استقامت نے اسے مضبوط بنایا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان نے آئین کی بحالی، تاریخی 18ویں ترمیم، صوبائی خود مختاری اور مفاہمت و جمہوری تسلسل کے لیے بے مثال کامیابیوں کا دور دیکھا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی پارٹی کے

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو