وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور کوریا کی شراکت داری میں اہم پیش رفت کے طور پر اسلام آباد میں پاک۔کوریا سولر پینل ٹیسٹنگ لیبارٹری کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں صدر KOICA اور سفیر جمہوریہ کوریا نے شرکت کی، جبکہ وفاقی وزیر خالد مگسی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان اور کوریا کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی کی شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ یہ لیبارٹری KOICA کی 9.

5 ملین ڈالر گرانٹ کی بدولت قائم کی گئی ہے اور ملک کی پہلی منظور شدہ PV ٹیسٹنگ لیبارٹری ہے۔ پاکستان کے پی ایس ڈی پی نے اس منصوبے کے لیے 185.8 ملین روپے فراہم کیے، جبکہ اسلام آباد میں 8 کنال زمین بھی مختص کی گئی۔ لیبارٹری نہ صرف پاکستانی مینوفیکچررز کو یورپ اور وسطی ایشیا میں سولر پینلز برآمد کرنے میں سہولت فراہم کرے گی بلکہ کوریا پاکستان کی سولر PV ماڈیولز کی بین الاقوامی معیار پر تصدیق میں بھی تعاون کرے گا۔ صدر KOICA نے کہا کہ پاکستان شمسی توانائی کے وسیع مواقع سے صاف اور سبز توانائی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور دونوں ممالک نے اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم اور تعاون کو وسعت دی ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو فروغ دینے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سولر پینلز کی تیاری اور برآمد کو یقینی بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات