جنوب مشرقی ایشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی؛ ہلاکتیں 1,750 سے تجاوز
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار ایشیا کے مختلف ممالک میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی مدد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اس موسمیاتی آفت سے انڈونیشیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں سرکاری ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,750 سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
انڈونیشیا کے صوبہ آچے کے سماٹرا جزیرے سے ہفتہ کو جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 908 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 410 تاحال لاپتا ہیں، صوبے میں 8 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔
???? This is what CLIMATE BREAKDOWN looks like!
Severe flooding has turned Hat Yai, in Songkhla Province, southern Thailand, into what looks like a war‑zone.
Historic rainfall has submerged neighbourhoods, forced mass evacuations, and left thousands stranded. Authorities report… pic.twitter.com/I1ZMY7PQcN
— Volcaholic ???? (@volcaholic1) November 28, 2025
آچے میں اب بھی کئی زندہ بچ جانے والے افراد گزشتہ ہفتے آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے تک ’انتہائی شدید بارش‘ کا امکان ہے، جبکہ شمالی اور مغربی سماٹرا بھی خطرے میں ہیں۔
مزید پڑھیں:
گورنر آچے مزاکر مناف کے مطابق امدادی ٹیمیں کمر تک گہری کیچڑ میں لاشوں کی تلاش کر رہی ہیں، مگر سب سے بڑا خطرہ اب دور دراز علاقوں میں بھوک اور بنیادی ضروریات کی کمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ سیلاب سے نہیں مر رہے، بھوک سے مر رہے ہیں۔ بہت سے علاقے اب تک امداد سے محروم ہیں۔
گورنر کے مطابق آچے تامیانگ کا پورا علاقہ تباہ ہو چکا ہے اور کئی دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔
سری لنکا میں حکومت نے 607 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ 214 افراد لاپتا ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ بھی جان سے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:
صدر انورا کمارا دِسانائیکے نے اسے ملک کی ’سب سے مشکل قدرتی آفت‘ قرار دیا ہے۔
ملک میں 2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جو آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق 71 ہزار سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے تقریباً 5 ہزار مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
محکمے نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث نئے لینڈ سلائیڈز کا خطرہ برقرار ہے، جو صفائی اور بحالی کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
تھائی لینڈ میں سیلاب سے کم از کم 276 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ملائیشیا اور ویتنام میں بھی شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:
ماہرین کے مطابق 2 طوفانوں اور ایک سائیکلون کے بیک وقت خطے سے گزرنے کے باعث شدید بارشیں ہوئیں اور موسمیاتی تبدیلی ان واقعات کے امکانات بڑھا رہی ہے۔
انڈونیشیا میں پام آئل کی عالمی طلب سے منسلک جنگلات کی غیر قانونی کٹائی نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔ متعدد علاقوں میں بہتے ہوئے درختوں کے بڑے بڑے تنے تباہی کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈونیشیا ایشیا بارش پام آئل تھائی لینڈ جنگلات سری لنکا سیلاب لینڈ سلائیڈنگ ملائیشیا ویتنام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈونیشیا ایشیا پام آئل تھائی لینڈ جنگلات سری لنکا سیلاب لینڈ سلائیڈنگ ملائیشیا ویتنام اور لینڈ سلائیڈنگ کے مطابق چکے ہیں
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک