آزاد کشمیر: عامر ذیشان جرال ڈی جی پولیٹیکل افیئرز وزیراعظم سیکرٹریٹ تعینات
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی رابطہ سیکرٹری عامر ذیشان جرال کو ڈائریکٹر جنرل پولیٹیکل افیئرز وزیراعظم سیکرٹریٹ (گریڈ 20) تعینات کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلم لیگ ن کے شاہ غلام قادر اپوزیشن لیڈر نامزد
سروسز اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے اس تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو صدر آزاد کشمیر کی منظوری سے جاری ہوا۔
عامر ذیشان جرال کون ہیں؟عامر ذیشان جرال 3 دہائیوں پر مشتمل بھرپور سیاسی کیریئر رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1988 میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے بطور رکن سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ وہ 1992 سے 1996 تک صدر پی ایس ایف ضلع میرپور رہے، جبکہ 1996 تا 2001 وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے پبلک ریلیشن آفیسر رہے۔
2001 سے 2004 تک وہ برطانیہ میں مقیم رہے۔ واپسی پر 2004 میں پیپلز پارٹی ضلع میرپور کی سنٹرل کمیٹی کے رکن مقرر کیے گئے، اور 2006 میں سیکریٹری اطلاعات پیپلز پارٹی میرپور کا عہدہ سنبھالا۔
عامر ذیشان جرال 2007 میں صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کے پولیٹیکل سیکرٹری تعینات ہوئے، اور 2011 سے 2016 تک وزیراعلیٰ چوہدری عبدالمجید کے پولیٹیکل سیکرٹری رہے۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر کی 20 رکنی نئی کابینہ نےحلف اٹھالیا
وہ 2016 اور 2021 کے عام انتخابات میں مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے سیکریٹری کی حیثیت سے فعال کردار ادا کرتے رہے، جبکہ 2023 میں انہوں نے پی ایس ایف آزاد کشمیر کے مرکزی انتخابات بطور چیف الیکشن کمشنر کرائے۔
جرال 2015 سے اب تک پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکریٹری رابطہ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عامر ذیشان جرال انچارج کشمیر افیئرز محترمہ فریال تالپور اور سینیئر رہنما چوہدری ریاض کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پارٹی کے اندر اور بیرون ملک ان کا وسیع حلقۂ احباب ہے اور وہ ہمیشہ تنظیمی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کرتے آئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Amir Zeeshan Jarral آزاد کشمیر عامر ذیشان جرال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عامر ذیشان جرال عامر ذیشان جرال پیپلز پارٹی
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔