Express News:
2026-07-24@06:05:19 GMT

مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزا ریاستی حکمت عملی بن گئی

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

مقبوضہ کشمیر میں انتہاپسند مودی سرکار کی جانب سے اجتماعی سزا ریاستی حکمت عملی بن گئی۔

بھارتی اخبار دی وائر میں پیرزادہ محبوب الحق اور ناصر کھوہامی کے کے آرٹیکل نے بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیریوں کے خلاف اجتماعی سزا جیسے مظالم کو بے نقاب کر دیا۔ 

دی وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک اہم اور غیر معمولی ریاست ہے، تاہم 5 اگست 2019 کو کشمیر سے آزادی اور اظہار رائے کا خاتمہ ہو گیا۔ دی وائر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاست اور اقتصادی پالیسیاں بیوروکریسی کے قبضے میں ہیں، ریاستی نظام پہلے سے کہیں زیادہ آمرانہ ہے اور دہلی کار دھماکوں کی سزا تمام بے گناہ کشمیریوں کو اجتماعی طور پر دی جا رہی ہے۔

پلوامہ، پہلگام اور دہلی کار بم دھماکوں کے بعد کشمیری جائز طور پر حکومتی سیکیورٹی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی ریاست کی حکمت عملی آمرانہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں ایک مسلسل نگرانی کرنے والا نظام نافذ ہے جو کشمیریوں کی جائز شکایات بھی نہیں سن رہا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کاغذی حکومت ہے جو مؤثر اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔

دی وائر کے مطابق منتخب رکن قومی پارٹی مہراج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ ان کی رہائی میں بے بس نظر آئے۔ پہلگام حملے کے بعد ریاست کا ردعمل ظالمانہ، ناپسندیدہ اور ناقص تھا اور بھارتی ریاست نے کئی بے گناہ کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کر دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزا ریاستی حکمت عملی بن چکی ہے۔

جاسر وانی کے والد نے اپنے قید شدہ بیٹے تک رسائی نہ ملنے پر خودسوزی کر لی۔ کشمیری نوجوان شدید مایوس ہیں اور بھارتی ریاست ظالمانہ اقدامات پر انحصار کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں دہلی کی خوشنودی کے لیے ایک دوسرے پر جھوٹے الزامات لگاتی ہیں۔ دی وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر ایک انسانی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

کشمیری عوام کا سیاسی کردار محدود ہے اور طاقت کا عدم توازن شدید ہے، مقامی لوگ سیاست میں اپنی آواز بلند نہیں کر پاتے۔ انسانی نقطہ نظر اپنانا اور سیاسی عمل میں کشمیریوں کو برابر کا حصہ دینا ضروری ہے تاکہ خوف و مایوسی کی نئی نسل پیدا نہ ہو۔ نوجوانوں کو سیاسی نمائندگی کے مواقع دینے اور دو روایتی خاندانوں کے اثر سے باہر نکالنا ناگزیر ہے۔ کشمیریوں کو پاسپورٹ، نوکری یا سیکیورٹی کلیئرنس سے محروم کرنا اور اجتماعی سزا جیسے اقدامات فوری طور پر ختم ہونا چاہئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں امن اور خوشحالی کے لیے کشمیری عوام کو مساوی شراکت دار تسلیم کرنا ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکمت عملی دی وائر

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع