2025 میں روزانہ 5 لاکھ سے زائد فائلوں میں سائبر خطرات کا پتہ لگا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیسپرسکی نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2025 میں روزانہ اوسطاً 5 لاکھ سے زائد سائبر حملوں پر مبنی فائلیں پکڑی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسورڈ چوری کرنے والے میلویئر میں 59 فیصد، اسپائی ویئر میں 51 فیصد اور بیک ڈور حملوں میں 6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مائیکروسافٹ ونڈوز صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں 48 فیصد افراد مختلف ڈیجیٹل خطرات کا شکار ہوئے، جبکہ میک صارفین میں یہ شرح 29 فیصد رہی۔
عالمی سطح پر 27 فیصد صارفین ویب بیسڈ خطرات کے، اور 33 فیصد صارفین جسمانی یا آن ڈیوائس ذرائع جیسے یو ایس بی ڈرائیوز اور سی ڈیز کے ذریعے پھیلنے والے میلویئر سے متاثر ہوئے۔ کیسپرسکی کے ہیڈ آف اینٹی مالویئر ریسرچ ولادیمیر کسکوف نے بتایا کہ موجودہ سائبر خطرات پیچیدہ اور ملٹی پلیٹ فارم نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2019 کی ری برانڈنگ کے بعد ایک ہیکنگ ٹیم دوبارہ سرگرم ہوئی، جس نے کمرشل اسپائی ویئر ڈانٹے فورم ٹرول اے پی ٹی مہم میں کروم اور فائر فاکس کے زیرو ڈے ایکسپلائٹس استعمال کیے۔ کسکوف نے کہا کہ ہر سال سافٹ ویئر کی کمزوریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے مضبوط پروٹیکشن، پیچ مینجمنٹ، انفراسٹرکچر کی نگرانی اور صارفین کی تربیت پہلے سے زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔
کیسپرسکی نے صارفین کو خبردار کیا کہ وہ غیر معتبر ذرائع سے ایپلیکیشنز انسٹال نہ کریں، نامعلوم لنکس پر کلک سے گریز کریں اور دوہرے تحفظ (ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن) کا استعمال کریں۔ اداروں کے لیے مشورہ دیا گیا کہ وہ سافٹ ویئر کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں اور کیسپرسکی نیکسٹ جیسی ایڈوانسڈ سیکیورٹی لائن استعمال کریں تاکہ پیچیدہ حملوں سے بچا جا سکے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 تک کے عرصے پر مشتمل ہیں اور کیسپرسکی سیکیورٹی نیٹ ورک سے حاصل کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔